Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / گلبرگ قتل عام : سزاؤں کا تعین ملتوی ‘ وکلاء کی بحث غیرمختتم

گلبرگ قتل عام : سزاؤں کا تعین ملتوی ‘ وکلاء کی بحث غیرمختتم

جمعرات کو سزاؤں کے اعلان کا امکان ‘ استغاثہ کا اعظم ترین سزا بشمول سزائے موت کیلئے اصرار
احمدآباد ۔ 6جون ( سیاست ڈاٹ کام) 2002ء کے گلبرگ ہاؤزنگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ میں آج استغاثہ نے سزائے موت یا سزائے عمرقید تاحیات کیلئے اصرار کیا ۔ کیونکہ حملہ ’ وحشیانہ و غیرانسانی‘ تھا ۔ عدالت نے مزید سماعت سزاؤں کے تعین کیلئے 9جون تک ملتوی کردی ۔ اعظم ترین سزا کیلئے زور دیتے ہوئے استغاثہ نے کہا کہ عدالت کو سزائے موت پر غور کرنا چاہیئے یا کم از کم مجرمین کو قید کردینا چاہیئے جو ان کی آخری سانس تک جاری رہے ۔ سزا کے تعین کیلئے مباحث تقریباً ڈھائی گھنٹہ بعد بھی غیر مختتم رہے ۔ خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی نے مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ۔ عدالت نے جمعہ کو 24 افراد کو مجرم قرار دیا تھا اور دیگر 36 ملزمین کو بری کردیا تھا ۔ وکیل استغاثہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی ) کی پیروی کررہے تھے ۔ آر سی کوڈیکر نے اپنے دلائل میں کہا کہ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 149کے تحت جن لوگوں کو مجرم قرار دیا جائے انہیں اعظم ترین سزا یعنی سزائے موت دی جانی چاہیئے ۔ اگر عدالت سزائے موت نہیں دیتی تو ان تمام کو عمر قید کی سزا دی جانی چاہیئے اور آخری سانس تک قید میں رکھا جانا چاہیئے ۔ جس انداز میں جرم کا ارتکاب کیا گیا وہ وحشیانہ اور غیرانسانی تھا ۔ مہلوکین کو زندہ جلادیا گیا ۔ یہ جرم کسی اشتعال انگیزی کا نتیجہ نہیں تھا اور یہ کہ اس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جو اپنا دفاع خود نہیں کرسکتے ۔ مہلوکین میں 14 خواتین اور 8بجے شامل ہیں ۔یہ تمام غیرمسلح اور اپنا دفاع کرنے کے ناقابل تھے ۔ گلبرگ سوسائٹی واقعہ کے بعد 39نعشیں برآمد کی گئی تھیں جبکہ دیگر 30کو اسلئے مردہ قرار دیا گیا کیونکہ 7سال گذرجانے کے باوجود وہ لاپتہ تھے ۔ مہلوکین کے وکیل ایس ایم وورا نے بھی ملزمین کو اعظم ترین سزا دینے کیلئے زور دیا ۔ ملزمین کے ایک وکیل نے سزائے موت یا اعظم ترین سزا کیلئے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا ۔ وورا  نے ورثاء کو معاوضہ کے ادائیگی کیلئے بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کیلئے امداد انتہائی ضروری ہے ۔ ۔ سپریم کورٹ اس مقدمہ کی نگرانی کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT