Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / گلبرگ قتل عام کیس: مجرمین کوپھانسی نہیں ، 11 خاطیوں کو عمر قید

گلبرگ قتل عام کیس: مجرمین کوپھانسی نہیں ، 11 خاطیوں کو عمر قید

ایک کو 10 سال اور بارہ کو 7 سال قید کی سزا ۔ خاطیوں کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں ۔ خصوصی ایس آئی ٹی عدالت کا اعلان

احمد آباد 17 جون ( سیاست ڈاٹ کام) گلبرگ قتل عام کو مہذب سماج کی تاریخ میں تاریک ترین دن قرار دیتے ہوئے ایس آئی ٹی کی ایک خصوصی عدالت نے آج 11 خاطیوں کو عمر قید کی سزا سنائی ۔ گلبرگ قتل عام میں 69 افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا جن میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی شامل تھے ۔ تمام خاطیوں کیلئے سزائے موت سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ گیارہ خاطیوں کیلئے سزائے عمر قید ان کی موت تک کیلئے ہوگی اگر ریاستی حکومت سزا میں تخفیف کا اپنا اختیار استعمال نہ کرے ۔ عدالت نے دیگر 13 سزا یافتگان میں ایک کو دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ 12 دوسروں کو سات سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ استغاثہ نے عدالت میں بحث میں استدعا کی تھی کہ تمام خاطیوں کو سزائے موت دی جائے ۔ قتل عام کو مہذب سماج کی تاریخ میں تاریک ترین دن قرار دیتے ہوئے خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی نے سزائے موت سنانے سے انکار کردیا اورک ہا کہ اگر تمام پہلووں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی سابقہ ریکارڈز پیش نہیں کئے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ واقعہ کے بعد 90 فیصد ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیاگیا تھا

تاہم ان کے خلاف متاثرین نے کوئی مزید شکایت نہیں درج کروائی اور ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جس سے پتہ چل سکے کہ خاطیوں نے ضمانت کے دوران کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس نے گیارہ ملزمین کو سزائے عمر قید سنائی ہے اور اس کیلئے کسی معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے ان پر قتل کا الزام ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ قید کے 14 سال مکمل ہوجانے کے بعد بھی ملزمین کی سزا میں تخفیف کیلئے اپنے اختیارات کا استعمال نہ کرے۔ دوسرے جن 13 مجرمین کو کم سزائیں دی گئیں ان میں ایک خاطی مانگی لال جین کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ دوسرے 12 ملزمین کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ گلبرگ سوسائیٹی قتل عام 28 فبروری 2002 کو پیش آیا تھا جب نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر تھے ۔ تقریبا 400 فسادیوں پر مشتمل ایک ہجوم نے احمد آباد شہر کے قلب میں واقع گلبرگ سوسائیٹی کو نذر آتش کردیا تھا جس میں 69 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ مہلوکین میں کانگریس کے سابق رکن راجیہ سبھا احسان جعفری بھی شامل تھے ۔ یہ گجرات فسادات کے ان 9 مقدمات میں شامل مقدمہ تھا جن کی سپریم کورٹ کی تقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کی تھی۔عدالت نے واضح کردیا کہ تما م ملزمین کے خلاف سزاوں کا اطلاق بیک وقت ہوگا کیونکہ یہ ایک ہی جرم میں سنائی گئی

TOPPOPULARRECENT