Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / گلی کوچوں کی نہیں ذہنوں کی صفائی کی ضرورت ہے : صدر جمہوریہ

گلی کوچوں کی نہیں ذہنوں کی صفائی کی ضرورت ہے : صدر جمہوریہ

غضنفر علی خان
ہندوستان میں اس وقت غیر معمولی حالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ہر طرف عدم تحمل ، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی قوت میں کمی نے تحمل پسندی اور یکتائی کی فضا خراب کردی ہے ۔ بی جے پی حکومت لاکھ سر پٹکے کہ ملک میں عدم رواداری کا ماحول نہیں ہے ۔ ملک کی غالب اکثریت کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند نے گذشتہ چند ماہ کے دوران بارہا قوم کو اس کی یاد دلائی کہ ہندوستان کا جمہوری ڈھانچہ اسکے ’’کثرت میں وحدت‘‘ کے نظریہ کو چند لوگ ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں گذشتہ ہفتہ صدر موصوف احمدآباد میں واقع سامبرمتی آشرم میں ایک تقریر کرتے ہئوے کہا کہ ’’گلی کوچوں میں غلاظت نہیں ہے اصل غلاظت گرد و غبار ذہنوں میں ہے‘‘ ۔ وزیراعظم نریندر مودی ’’صاف ستھرے ہندوستان‘‘ کی مہم چلارہے ہیں ۔ ریاستی اور مرکزی وزراء اور خود مسٹر مودی سڑکوں کو صاف کرتے ہوئے محتلف ٹی وی چینلس پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ صدر جمہوریہ نے اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ اصل گندگی اور غلاظت ذہنوں اور دلوں میں ہے ۔ صرف سڑکیں صاف کرنے سے ملک پاک و صاف نہیں ہوگا ۔ اصل صفائی اذہان اور قلوب کی ہے ۔ راست طور پر انھوں نے کہا ہے کہ دکھاوے کی صفائی کی مہم سے ملک کا وہ ذہن ختم نہیں کرسکتا جو وحدت میں کثرت کے نظریہ کا مخالف ہے ۔ قلب و نظر میں کبیدگی ، دلوں میں نفرت ، ذہنوں میں تنگی حد تک رہے گی ۔ ملک کا معاشرہ معمول کی زندگی نہیں گذار سکتا اور یہ بات معاشرہ کے وجود و بقا کے لئے ضروری ہے ۔ وسیع النظری دوسروں کے عقائد کے احترام کا جذبہ ، صرف خود ہی کو صحیح سمجھنا اور دوسروں کو غلط سمجھنے کا جو طرز عمل ان دنوں بی جے پی اور اس کی ہم خیال ہندوتوا پارٹیوں نے اختیار کیا ہے وہ ملک کے سارے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دے گا ۔ صدر جمہوریہ ملک کے ان سیاستدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں جنھوں نے کئی ادوار دیکھے جو ملک کے تاریخی مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں ، انھیں یہ احساس بار بار ستارہا ہے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ بالکل آج کل جو کچھ ہورہا ہے وہ اسکی باہمی تحمل پسندی اور رواداری کے برعکس ہے ۔ اس کرب کے احساس کے تحت وہ بار بار قوم کو یاد دلارہے ہیں کہ آج کل تقسیم پسند طاقتیں ملک کو ساری ہندوستانی قوم کو گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔ صدر جمہوریہ کو ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد اور صف آرائی پر سخت تشویش لاحق ہوگی ۔ اسی لئے انھوں نے گاندھی جی کے سابرمتی آشرم میں کہا کہ ’’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پرامن بقائے باہم ہی ہمارے زندہ رہنے کا واحد راستہ ہے ۔ صدر جمہوریہ کے اس خیال سے عدم اتفاق صرف وہی لوگ سکتے ہیں جو ملک کے دستور اس کی ساخت اس کی تکثیریت سے اختلاف کرتے ہیں ۔ انھو ںنے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ’’عدم تشدد کی باہمی بات چیت اور معقولیت پسندی سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہیں جو ہندوستانی معاشرہ کو متحد و منظم رکھ سکتے ہیں ۔ بی جے پی یا اسکی حکومت کا یہ کہنا کہ ’’عدم رواداری کا ملک میں کوئی چلن نہیں ہے‘‘ یکسر غلط ، خلاف واقعہ ، لغو اور بے معنی ہے ۔

حکومت کے علاوہ ملک بھر میں عوام اور سیاسی پارٹیاں عدم تحمل پسندی اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کی شدت کے ساتھ مخالفت کی روش سے سخت پریشان ہیں ۔ اس عوامی احساس سے خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے  صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ ’’گلیوں، سڑکوں سے زیادہ گرد و غبار ذہنوں میں ہے‘‘ ۔ اصل صفائی کی مہم تو ان ذہنوں کو صاف کرنے کے سلسلہ میں کی جانی چاہئے ۔ اگر اس ذہنی غلاظت اور گردو غبار کے ساتھ بھارت صاف ستھرا ہو بھی جائے ظاہری طور پر تو اس سے کیا حاصل ہوگا ۔ ذہنوں میں اتنی منافرت اور اتنی کوتاہی کے ساتھ ہندوستان جی نہیں سکتا ۔ اس کا ذرا برابر بھی احساس موجودہ بی جے پی حکومت کو نہیں ہے ۔ کسی غلاظت کسی گرد و غبار کی موجودگی میں ’’صاف ستھرے‘‘ بھارت کا خیال ’’دیوانے کی بڑ‘‘ سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے جب ملک کے منتخبہ صدر کا یہ احساس ہے کہ آج کل عدم تشدد پھل پھول رہا ہے تو گویا صدر موصوف نے اس حقیقت پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ ’’عدم تحمل پسندی اور رواداری کا عتاب سارے معاشرہ میں پروان چڑھ رہا ہے ۔ کسی مرکزی وزیر کے پارلیمان میں یہ کہنے سے سچائی بدل نہیں جائے گی بلکہ ان دنوں تشدد پسندی ، انتہا پسندی ہمارا وطیرہ بنتی جارہی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے سارے ملک کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک ایسی سچائی بیان کی ہے جو مسٹر مودی اور ان کے مٹھی بھر وزراء تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ وہ وزراء ہیں جو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ عدم تحمل پسندی کے واقعات ایک خاص گروپ کے بنائے ہوئے اور تیارکردہ ہیں ۔ سوائے سنگھ پریوار جس کا سرپرست آر ایس ایس ہے ۔ یہی رٹ لگائے ہوئے ہے حالانکہ اب تو کئی واقعات یہ ثابت کرچکے ہیں کہ بردباری ، رواداری اگر ختم نہیں ہوئی ہیں تو کم از کم اتنی کمزور ہوگئی ہیں کہ اگر آج پوری طاقت سے اس کو بچایا نہ گیا تو یہ ختم بھی ہوسکتی ہے ۔ صدر جمہوریہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے ۔ وہ تڑپ تڑپ کر بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک سے یہ رواداری کا اثاثہ ختم نہ کرو کہ اسی میں ہماری قومی بقاء کے سامان ہیں ۔ یہی وہ قیمتی خزینہ ہے جس کی ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت سے حفاظت کی ہے ۔

یہ اثاثہ کوئی چند برسوں کی پیداوار نہیں اسکی حفاظت میں ہم نے صدیاں گذاردیں ۔ آج یہ عالم ہے کہ انسان کی زندگی بے قیمت ہوگئی ہے ۔ کسی انسان کو اس شبہ کی بنیاد پر بے دردی سے ہلاک کردیا جاتا ہے کہ اسکے گھر میں گائے کا گوشت موجود ہے ۔ جو سراسر افواہ ثابت ہوتی ہے لیکن انسانی جان تو تلف ہوگئی ۔ اب یہ کیفیت ہمارے شہر حیدرآباد میں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اترپردیش کے دادری دیہات میں محمد احلاق نامی ایک بے گناہ مسلمان کے قتل عبث کا حوالہ دیتے ہوئے ہمارے شہر کے بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ نے کہا ہے کہ اگر عثمانیہ یونیورسٹی میں 10 ڈسمبر کو ’’بیف فیسٹول‘‘ منایا گیا تو ہم حیدرآباد کو بھی ایک دوسرا ’’دادری‘‘ بنادیں گے ۔ ایسا فیسٹول کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی عثمانیہ یونیورسٹی میں ’’بیف میلہ‘‘ ہوچکا ہے ۔ لیکن دادری کے عبرت ناک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے راجہ سنگھ نے فخریہ انداز میں کہا کہ ’’وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہیں اور یونیورسٹی میں ایسا میلہ اگر ہو تو وہ ’’حیدرآباد کو دوسرا دادری بنادیں گے‘‘ ۔ پارلیمنٹ میں عدم رواداری پر مباحث کے دوران متعدد اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ رواداری تیزی سے ختم ہورہی ہے اور اس کے تحفظ کی کوئی تدبیر حکومت نہیں کررہی ہے ۔ کانگریس کا یہ خیال بھی صحیح نہیں ہے ۔ رواداری کا تحفظ بھلا بی جے پی حکومت کیوں کرے وہ تو ’’دیدہ دانستہ‘‘ طور پر ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو رواداری کا ہمارے ملک میں وجود مٹانے کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ ملک میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں تو بی جے پی حکومت اپنے خفیہ ایجنڈہ کی اس کو کامیابی تصور کرتی ہے ۔ اب مسلم اقلیت کے غیر محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے لیڈر اور سابقہ مرکزی مملکتی وزیر ششی تھرور نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں گائے ہونا ، کسی کے مسلمان ہونے سے زیادہ محفوظ ہے‘‘ ۔ ان کا یہ تبصرہ بے حد قابل ستائش ہے اور موجودہ صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT