Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو اور کھدائی کے دوران نادر نمونے دستیاب

گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو اور کھدائی کے دوران نادر نمونے دستیاب

زیرزمین وضو خانہ، حوض اور مسجد دریافت، امریکی ڈپلومیٹک مشن کے دورہ کے موقع پر انکشاف
حیدرآباد 7 اگسٹ (سیاست نیوز) گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو کے دوران کھدائی میں نادر نمونے دستیاب ہوئے۔ یہ نمونے اور زیرزمین دریافت وضو خانہ، حوض، مسجد قطب شاہی دور کی تاریخ کو یاد تازہ کرتا ہے۔ سمر پیالس میں کھدائی کے دوران دستیاب انڈونیشیا کا مرتبان، چین کا برتن قطب شاہوں کے تجارتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ بات آج اس وقت منظر عام پر آئی جب امریکی ڈپلومیٹک مشن برائے ہند کے ڈپٹی چیف مشن مسٹر مائیکل ہیئر نے گنبدان قطب شاہی کا دورہ کیا۔ امریکہ کے تعاون سے آغا خاں ٹرسٹ فار کلچرل کی زیرنگرانی جاری تزئین نو کے کاموں کا مسٹر مائیکل نے جائزہ لیا اور تزئین نو کے کاموں کے تعلق سے آگہی حاصل کی۔ 100 کروڑ روپئے کے اخراجات سے اس وسیع پراجکٹ پر کام جاری ہیں۔ ڈاکٹر رتیش نندا اور کے کئے۔ محمد جو آغا خاں ٹرسٹ کے ذمہ دار ہیں، نے بتایا کہ سمر پیالس میں کھدائی کے ذریعہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس علاقہ میں معلم ہوا کرتا تھا اور باضابطہ یہاں قرآنی تعلیمات انجام دی جاتی تھیں اور ایسے کمرے بھی دستیاب ہوئے جس سے تاریخ کے مطابق اندازہ ہوتا ہے کہ معلم اور طلبہ جو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے یہاں رہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ باغ کی کھدائی جو سلطان قطب الملک کے مقبرہ کے قریب واقع ہے، اس مقام کے زیرزمین بھی کئی ایجادات برآمد ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گنبدان قطب شاہی میں مزید تین سال تک کھدائی کا کام جاری رہے گا اور 10 سال تک پراجکٹ کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 30 طلبہ کو تربیت دی جارہی ہے جو اپنی تربیت کے مرحلہ کو مکمل کرنے کے مرحلہ میں ہیں۔ ان میں 15 طلبہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور 15 مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ہیں۔ اس موقع پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT