Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / گنگا جمنی تہذیب کی مثال ‘ مندر کمیٹی کی جانب سے درگاہ پر صفائی و روشنی

گنگا جمنی تہذیب کی مثال ‘ مندر کمیٹی کی جانب سے درگاہ پر صفائی و روشنی

حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) ملک بھر میں جاری فرقہ وارانہ نوعیت کی کشیدگی اور نفرت کے ماحول کے برخلاف نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف حیدرآباد میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یہاں عوام گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ پرانے شہر میں اکنا مادنا مندر میں بونال کا بڑے پیمانے پر انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے لیکن روایات کے مطابق جب تک اس مندر کی کمیٹی کی جانب سے مندر کے بالکل روبرو واقع ایک درگاہ پر نذر پیش نہیں کی جاتی اُس وقت تک اس بونال تقاریب کو مکمل نہیں سمجھا جاتا۔ 10 روزہ بونال تہوار کے دوران مندر کمیٹی کی جانب سے درگاہ پر ہر سال چادر چڑھائے جانے کے علاوہ رنگ و روغن کیا جاتا ہے اور روشنیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مندر کمیٹی کے جوائنٹ سکریٹری پی کرانتی نے اس تعلق سے بتایا کہ جب اس تہوار کے موقع پر مندر میں رنگ و روغن کیا جاتا ہے درگاہ پر بھی سبز رنگ کرواتے ہیں۔ ہم یہاں چادر پیش کرتے ہیں چونکہ یہ درگاہ مندر کے عین روبرو واقع ہے اس لئے ہم اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کبھی کبھار ایک مسلم خاتون یہاں آکر صفائی کرتی ہے لیکن اکثر ہم ہی یہاں صفائی کرواتے ہیں۔ کرانتی نے بتایا کہ درگاہ ان کیلئے مندر سے کم نہیں ہے اور درگاہ میں صفائی وغیرہ پوری اہمیت سے کئے جاتے ہیں۔ مندر کا عملہ پوری باقاعدگی کے ساتھ یہاں صفائی کرتا ہے اور کوئی لاپرواہی نہیں کی جاتی۔ درگاہ کی صفائی بھی اتنی ہی عقیدت سے کی جاتی ہے جتنی اہمیت سے مندر کی کی جاتی ہے۔ چند دن قبل وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی نے مندر کمیٹی کی جانب سے درگاہ پر چادر پیش کی تھی۔ مندر کمیٹی کے ایک اور رکن جی نرنجن نے بتایا کہ بونال جلوس میں جس ہاتھی کا استعمال ہوتا ہے وہ کئی برسوں سے نظام ٹرسٹ کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے اسی طرح بی بی کے علم کے جلوس میں ہتھنی رجنی کی خدمات لی جاتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT