Thursday , May 25 2017
Home / دنیا / گوئٹے مالا کے سرکاری شیلٹر میں آتشزدگی، 22 کمسن لڑکیاں ہلاک

گوئٹے مالا کے سرکاری شیلٹر میں آتشزدگی، 22 کمسن لڑکیاں ہلاک

سان جوز پنولا ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گوئٹے مالا میں واقع ایک سرکاری ہوسٹل (شیلٹر) جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی کثیر تعداد تھی، آتشزدگی کے ایک دلسوز حادثہ میں 22 افراد کے ہلاک ہوجانے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کہا جارہا ہی کہ نوجوان کمسن لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا جارہا تھا اس کے علاوہ اور بھی کئی واقعات بتائے جارہے ہیں جہاں ان کے ساتھ غلط برتاؤ روا رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے اسٹاف کے خلاف بغاوت کا جذبہ پیدا ہوگیا تھا۔ کل کسی نے لڑکیوں کے بستر کے لئے استعمال کئے جانے والے گدوں میں آگ لگادی تھی جو پھیل کر ڈورمیٹری تک پہنچ گئی۔ اس وقت کئی لڑکیاں مقفل ڈورمیٹری میں پھنس کر رہ گئیں اور نتیجہ ان کی موت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ہلاک ہونے والی تمام لڑکیوں کی عمر 14 تا 17 سال بتائی گئی ہے جبکہ 17 نعشیں بری طرح جھلس کر ناقابل شناخت ہوگئی ہیں جس کیلئے ڈی این اے ٹسٹ کیا جائے گا۔ حادثہ کی اطلاع پاتے ہی بچیوں کے والدین جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور بے چینی سے معلومات حاصل کرنے کیلئے پریشان نظر آئے۔ کئی لوگ ہاسپٹلس اور ان سے ملحقہ مردہ خانوں تک پہنچ گئے۔ دریں اثناء ڈاکٹر مارکو انٹونیو نے والدین سے خواہش کی ہیکہ وہ اپنی بچیوں کی تصاویر، دانتوں کے ریکارڈس اور اگر ان کے جسم پر کوئی ٹاٹو موجود ہو یا پھر کوئی اور نشانی ہو تو اس کی پوری اطلاع دیں۔ اس شیلٹر کو 2006ء میں قائم کیا گیا تھا جو گوئٹے مالا سٹی سے 10 کیلو میٹر کے فاصلہ پر سان جوز پنولا میں واقع ہے۔ شیلٹر کے آس پاس کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہیکہ وہاں کے حالات دگرگوں تھے۔ شیلٹر کے اندر بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا اور کبھی کبھی شرارتی لڑکوں کو ایک اندھیرے شیلٹر میں تنہا رہنے کی سزاء دی جاتی تھی جس کا نام ’’چکن کوپ‘‘ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT