Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / گوداوری سے ریت کی نکاسی کا منصوبہ

گوداوری سے ریت کی نکاسی کا منصوبہ

کریم نگر ۔20فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت ذرائع آمدنی میں اضافہ کی طرف توجہ دے رہی ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے مفت میں بہ آسانی دستیاب ہونے والی ریت کی طرف اس کی نظر ہے تاکہ حکومت کا خزانہ بھر سکے ‘ سب سے پہلے ضلع کریم نگر میں لوئیر مانیر ڈیام کے تحت زیر آب آجانے والے مقام قاضی پور میں ریت کی نکاسی کا کام شروع ہوا۔ لاریوں اور ٹریکٹرس کے ذریعہ ریت کی سربراہی کی قیمت مقرر کی گئی ‘ بعدازاں کتہ پلی میں ایک اور ریت کے ذخیرہ کی نشاندہی کی گئی ۔ اس کے بعد مڈ مانیر سے متاثرہ گاؤں آرے پلی سے ریت کی نکاسی کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایک سال کی مدت میں ان تینوں مقامات سے 27.40 کیوبک میٹر ریت فروخت کی گئی جس سے حکومت کو 150.70کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ اس کے باوجود ریت کی غیر مجاز منتقلی کا کاروبار بھی عروج پر ہے ۔ لاری کے مالکان قدرتی طور پر آسانی سے حاصل ہونے والی غیر مجازریت کی منتقلی کے کاروبار میںدونوں ہاتھوں سے کمارہے ہیں اور دولت مند بنتے چلے جارہے ہیں ۔ ایسے حالات میں حکومت غیر مجاز ریت کے کاروبار میں ملوث تاجروں کا پتہ چلائے اور سرکاری طور پر ریت کی فروخت کے مراکز قائم کرے ۔گوداوری ندی تلنگانہ اور مہاراشٹرا کی سرحد پر واقع ہے ۔ کئی لفٹ اریگیشن پراجکٹ اس سے منسلک ہیں ۔ گوداوری ندی میں 26.43 لاکھ کیوبک میٹر ریت کے ذخیرہ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ 11.88 لاکھ کیوبک میٹر ریت کی نکاسی کی بھی اجازت حکومت نے دے دی ہے ۔ ملیار ‘ ابراہیم پٹنم ‘ رائیکل ‘ سارنگاپور ‘ دھرم پوری ‘ ویلگاٹور ‘ رام گنڈم ‘ منتھنی ‘ کمان پور ‘ کاٹارام اور مہادیو پور منڈلس کے قریب سے گوداوری گزرتی ہے ۔ رائیکل ‘سارنگاپور اور دھرم پوری کے قریب گوداوری میںریت کم ہے اور پتھر زیادہ ہے ۔ ویلگاٹور اور رام گنڈم کے علاقہ میں ایلم پلی کے پراجکٹ کے پانی کی وجہ سے ریت کی نکاسی ممکن نہیں ۔ کمان پور ‘ منتھنی اور کاٹارم میں غیر مجاز ریت کی منتقلی کا کاروبار چل رہا ہے ۔ مہادیوپور میں کایشورم کے پانی میں پرانہیتا ندی مل رہیہے اس لئے یہاں ہمیشہ پانی رہتا ہے ۔ اس سے قبل یہاں سے ریت نکالی جاچکی ہے ۔ اب حکومت یہاں گوداوری کے ساحلی مقامات پر پٹہ جات کی اراضی سے ریت کی نکاسی کی اجازت دے دی ہے ۔ اس سلسلہ میں ریت کی نکاسی کیلئے حکومت نے درخواستیں طلب کیں ۔ اب تک ضلع کے 44 افراد نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ ان اراضیات سے حکومت کو 10لاکھ کیوبک میٹر ریت کا ذخیرہ حاصل ہونے کا اندیشہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT