Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / گورنرس کو دستوری حدود کی پابندی کا مشورہ

گورنرس کو دستوری حدود کی پابندی کا مشورہ

NEW DELHI, JAN 8 (UNI):-President Pranab Mukherjee, delivering a New Year Message to The Govrnors and Lt. Governors through Video Conferencing using National Knowledge Network at Rashtrapati Bhavan in New Delhi on Friday. UNI PHOTO-33U

مملکت کے تین کلیدی ستون کا احترام ضروری : صدر پرنب مکرجی
نئی دہلی ۔ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج گورنروں پر زور دیا کہ وہ دستوری ڈھانچہ کے تحت اپنے فرائض انجام دیں۔ ان کا یہ تبصرہ اروناچل پردیش اور تریپورہ جیسی چند ریاستوں کے گورنروں سے متعلق تنازعات کے پس منظر میں کئے گئے ہیں۔ صدرجمہوریہ نے راشٹرپتی بھون سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گورنروں کو نئے سال کی مبارکباد دی اور کہا کہ وہ (گورنرس) مملکت کے تین اہم اعضاء کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا احترام کریں۔ صدر ہند نے کہاکہ گورنرس اپنی متعلقہ ریاستوں کے دستوری سربراہ ہوتے ہیں۔ ’’انہیں (گورنرس کو) دستوری چوکٹھے کے تحت کام کرنا چاہئے۔ بہ الفاظ دیگر انہیں مملکت کے تین کلیدی اعضا کے عاملہ، عدلیہ اور مقننہ اختیارات و ذمہ داریوں کا بھرپور احترام کرتے ہوئے اپنے مفوضہ فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھانا چاہئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گورنروں کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل و دانش اور تجربات کے علاقہ اخلاقی اتھاریٹی کے مرکز اور ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی تعلقات پیدا کریں کیونکہ ایسا کرنا ریاست اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوگا۔ اروناچل پردیش کے گورنر جیوتی پرساد راج کھووا ریاستی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کی مقررہ تاریخ 9 ڈسمبر کو 14 جنوری 2016ء تک بڑھا دیا تھا جس کے خلاف چیف منسٹر نابم ٹوکی کے کیمپ اور کئی عوامی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ راجکھووا پر کئی سیاسی جماعتوں نے دستور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس طرح تریپورہ کے گورنر تتھاگت رائے اپنے ٹوئیٹر ریمارکس کے ذریعہ وقفہ وقفہ سے ایک نیا تنازعہ پیدا کرتے رہے ہیں۔ رائے نے ٹوئیٹر پر ریمارک کیا تھا کہ 1993ء ممبئی دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے تمام افراد امکانی دہشت گرد ہیں اور انٹلیجنس ایجنسیوں کو چاہئے کہ ان پر کڑی نظر رکھے۔

TOPPOPULARRECENT