Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / گورنر اترپردیش رام نائک کٹرفرقہ پرست اور آر ایس ایس کارکن

گورنر اترپردیش رام نائک کٹرفرقہ پرست اور آر ایس ایس کارکن

حکومت کے خلاف متنازعہ بیانات پر سماج وادی پارٹی لیڈر رام گوپال یادو کا الزام
لکھنو ۔ 26 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں امن قانون کی صورتحال پر ریاستی گورنر کے متنازعہ ریمارک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکمران سماجی وادی پارٹی نے آج انہیں آر ایس ایس کارکن قرار دیا ہے اور یہ مشورہ دیا کہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کیلئے وہ مرکزی کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ راج بھون اور اکھلیش یادو حکومت کے درمیان جاریہ رسہ کشی پر ایس پی  کے نیشنل جنرل سکریٹری مسٹر رام گوپال یادو نے کہا کہ رام نائک کا بیان دستور کی حقیقی روح کے مغائر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رام نائک اپنے آپ کو ریاستی گورنر نہیں ملک کا وزیر داخلہ تصور کر رہے ہیں۔ گوکہ امن قانون کی صورتحال پر زبانی بیانات دے رہے ہیں لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دادری واقعہ کیلئے کون ذمہ دار ہیں جو کہ ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا ۔مسٹر رام گوپال یادو نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر نے کئی مرتبہ فرقہ پرست تنظیموں کے پروگرامس میں شرکت کی اور آر ایس ایس ورکر کی طرح بیانات دیئے ہیں جو کہ دستوری عہدہ کے اعتبار سے مناسب نہیں ہے اور گو رنر کے وقار کے مغائر ہے لیکن انہیں تو متنازعہ بیانات دینے کی عادت ہوگئی ہے ۔ سماج وادی پارٹی لیڈر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ رام نائک کو کابینہ میں شامل کرلیا جائے تاکہ وہ ملک بھر میں دورہ کرتے ہوئے اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی تکمیل کرسکیں۔ قبل ازیں گورنر نے کل یہ ریمارک کیا تھا کہ ریاست میں امن و قانون کی صورتحال ابتر ہے اور انہوںنے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دیں ۔ مسٹر رام نائک نے کہا تھا کہ امن و قانون کی خراب صورتحال کے باعث فرقے وارانہ گڑبڑ کے واقعات پیش آرہے ہیں، جس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی لیڈر نے کہا کہ اترپردیش کے سواء ملک کبھر میں کسی بھی گورنر نے اس طرح کے بیانات نہیں دیئے۔ اگرچیکہ چھتیس گڑھ ، راجستھان ، جھارکھنڈ ، شمال مشرقی کی ریاستوں میں متعدد ناخوشگوار واقعات پیش آئے لیکن ان ریاستوں کے کسی بھی گورنر امن و قانون کی صورتحال پر کوئی بیان نہیں دیا ہے ۔ مسٹر یادو نے کہا کہ وہ دستور کا فہم رکھتے ہیں چونکہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ، لہذا گورنر کے خلاف بیان دینے پر مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT