Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / گورنر اروناچل پردیش کی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل

گورنر اروناچل پردیش کی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل

عدالت کے حکم سے پہلے کارروائی کا ادعا، راج بھون سے بیان کا اجراء
ایٹانگر /18 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم نامہ کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے گورنر اروناچل پردیش نے بیان جاری کیا ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے ریاستی اسمبلی کے اجلاس کو قبل از وقت منعقد کرنے کے گورنر کے اقدام کے خلاف اسپیکر اور چیف منسٹر نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ اسپیکر اور چیف منسٹر کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ان کے عہدہ سے برطرف کرکے ایک عارضی احاطہ میں اروناچل پردیش اسمبلی کا متوازی اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں نئے چیف منسٹر کو منتخب کیا گیا۔ تمام متعلقہ دستاویزات بشمول داخل کردہ رٹ درخواست کی نقل اور واحد جج پر مشتمل بنچ کے حکم نامہ کی نقل حاصل کرنے کے بعد اپیل کی جائے گی۔ راج بھون سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر انتہائی حیرت زدہ ہیں، جب انھیں اطلاع ملی کہ واحد جج پر مشتمل بنچ گوہاٹی ہائی کورٹ جسٹس رشی کیش رائے نے ایک حکم التواء جاری کیا ہے، جس کے تحت 9 دسمبر کے گورنر کے حکم نامہ کو زیر التواء رکھ دیا گیا ہے۔

گورنر نے 14 جنوری 2016ء کو مقرر اسمبلی اجلاس دستور ہند کی دفعہ  174(1) کے تحت 16 دسمبر کو قبل از وقت منعقد کیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر کارروائیوں بشمول اسپیکر نابم ریبیا کی ایک قرارداد کی منظوری کے ذریعہ عہدہ سے علحدگی پر بھی حکم التواء جاری کیا گیا ہے۔ 33 ارکان اسمبلی نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے، تاہم بیان میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ فیصلہ کو کہاں چیلنج کیا جائے گا۔ کیا گوہائی ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ پر یا سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی؟۔ راج بھون نے اپنے ردعمل میں کہا کہ گورنر کا اعلامیہ جس میں اسمبلی کا اجلاس آئندہ سال 14 جنوری کی بجائے جاریہ سال 16 دسمبر کو منعقد کیا گیا تھا۔ جج کے فیصلہ سے پہلے کا اقدام ہے۔ جج نے مقدمہ کی آئندہ سماعت یکم فروری کو مقرر کی ہے۔ اسمبلی کا احاطہ اسپیکر نابم ریبیا نے چہار شنبہ کے دن مہربند کردیا تھا۔ کانگریس کے ناراض ارکان اسمبلی، بی جے پی کے ارکان اور آزاد ارکان نے چہارشنبہ کے دن ایک کمیونیٹی ہال میں اسمبلی کا متوازی اجلاس منعقد کیا، جس میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اسپیکر کو علحدہ کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کو ان کی جگہ منتخب کیا گیا۔ جمعرات کے دن ارکان اسمبلی کا ایک اجلاس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں

چیف منسٹر کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کی گئی اور ایک ناراض کانگریسی رکن اسمبلی کھالیکوپل کو نیا چیف منسٹر منتخب کیا گیا۔ ریبیا نے گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کی کارروائی کے کے خلاف عدالت میں درخواست پیش کی۔ راج بھون کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جو کارروائی پہلے ہی ہوچکی ہے اور یہ تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے بہت پہلے ہوئی تھی، اس لئے چیف منسٹر نابم ٹو کی زیر قیادت مجلس وزراء نے ایک قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد واحد جج پر مشتمل بنچ کے حکم نامہ سے بہت پہلے منظور کی گئی۔ جب کہ واحد رکنی بنچ نے حکم نامہ بہت بعد میں یعنی 17 دسمبر کو جاری کیا۔ گورنر نے حیرت ظاہر کی کہ جسٹس رشی کیش رائے نے کیسے سمجھ لیا کہ ان پر عائد الزامات درست ہیں اور ایک فریق کی تائید کی۔ دستیاب ریکارڈس اور مواد کا بھی جائزہ نہیں لیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر کو یہ مشاہدہ کرکے بھی شدید تکلیف پہنچی کہ نہ تو کوئی نوٹس جاری کی گئی اور نہ انھیں کوئی موقع دیا گیا۔ عدالت کی سکریٹریٹ نے درخواست رٹ عدالت کے اجلاس پر پیش کردی، جو مبینہ طورپر علحدہ شدہ اسپیکر نابم ریبیا نے داخل کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT