Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / گورنر ارونا چل پردیش کی برطرفی کا مطالبہ، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

گورنر ارونا چل پردیش کی برطرفی کا مطالبہ، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

اجلاس کئی مرتبہ ملتوی، دستور کی دھجیاں اُڑادی گئیں، گورنر کی عجیب کارروائی، تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی: غلام نبی آزاد

نئی دہلی۔/18 ڈسمبر ، (سیاست ڈاٹ کام ) ارونا چل پردیش کے گورنر جیوتی پرساد راجکھوا کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زبردست شوروغل اور ہنگامہ آرائی کی جس کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی کی گئی۔ ارونا چل پردیش میں پیدا شدہ متنازعہ سیاسی صورتحال پر لوک سبھا میں چوتھے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ارونا چل پردیش میں اپنی پارٹی کی منتخبہ حکومت کی بیدخلی کی کوششوں میں گورنر کے رول پر سخت احتجاج کیا۔ اس مسئلہ پر لوک سبھا میں بحث کی اجازت دینے سے اسپیکر کے انکار پر کانگریس کے تمام ارکان نے سونیا گاندھی کی قیادت میں ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ کانگریس کے برہم ارکان نے ایوان سے باہر نکلتے ہوئے ’’ جانبداری ختم کرو‘‘ کا نعرہ لگایا۔ ایوان میں کانگریس کے لیلار ملکارجن کھرگے نے اس مسئلہ پر آج دن بھر کیلئلے ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ ان کے ساتھ این سی پی اور جے ڈی ( یو ) ارکان بھی شامل ہوگئے۔ سونیا گاندھی بھی ایوان کے وسط میں احتجاج میں مصروف کھرگے کے ساتھ شامل ہوگئے۔ کھرگے نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ انہیں اس مسئلہ پر اظہار خیال کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ارونا چل پردیش کی صورتحال سے جمہوریت کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ لیکن اسپیکر اپنے موقف پر اٹل رہیں اور انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ کانگریس کے برہم ارکان وقفہ سوالات اور وقفہ صفر کے دوران بدستور ایوان کے وسط میں جمع رہے اور ’’ ڈکٹیٹر شپ ختم کرو ‘‘ ، ’’ گورنر کو برطرف کرو ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اروناچل پردیش کے گورنر راجکھوا کی باز طلبی کا مطالبہ کیا۔ وقفہ سوالات کے دوران کانگریس کے چند ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر ہنگامہ آرائی کی جب اسپیکر نے تحریک التواء قبول کرنے سے انکارکردیا۔ کھرگے نے گورنر کے رول کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد صورتحال نیا موڑ اختیار کرچکی ہے۔

اسپیکر نے واضح کیا کہ ایوان میں ہائی کورٹ کا کوئی حوالہ نہیں دیا جاسکتا اور اروناچل پردیش کا مسئلہ پہلے ہی اٹھایا جاچکا ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کرسی صدارت سے درخواست کی کہ ہائی کورٹ کے حوالوں کو ایوان کے ریکارڈ سے حذف کردیا جائے۔ اسپیکر نے کہا کہ ’’ آپ ( اپوزیشن ارکان ) ہر دن نعرے لگایا کرتے ہیں۔ حکومت ، حکومت فیصلے نہیں کرسکتی۔ ایوان اس طرح نہیں چلایا جاسکتا۔‘‘ بظاہر کانگریس کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ ’’ کئی سال تک حکمرانی کرنے اور ایوان میں موجود رہنے کا آپ کو تجربہ ہے۔ ایوان کی کارروائی تو بہرحال قواعد کے مطابق ہی چلائی جائے گی۔‘‘ تاہم کسی نے بھی ان کی بات پر سنجیدہ توجہ نہیں دی اور ہنگامہ جاری رہا۔ اس دوران اسپیکر نے اپنے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ایوان کے وسط میں کھڑے ہوئے ان کانگریس ارکان کے نام درج کئے جائیں جو حکومت کے خلاف نعرے بازاری کررہے ہیں۔ ایوان بالا میں بھی گورنر راجکھوا کی برطرفی کے مطالبہ پر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئیں جن کے مسلسل شوروغل کے سبب ایوان کی کارروائی کم سے کم تین مرتبہ ملتوی کی گئی۔ ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ارکان نے بھی اس مسئلہ پر ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ کانگریس کے سینئر قائد اور اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں اس مسئلہ پر گزشتہ چار دن سے جاری احتجاج کے درمیان ارونا چل پردیش کی صورتحال پر بحث کے لئے تحریک التواء پیش کی اور کہا کہ پارلیمنٹ میں گزشتہ کئی دن سے جااری تعطل کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔

غلام نبی آزاد نے دعویٰ کیا کہ گورنر نے چیف منسٹر اور کابینہ کی سفارش کے بغیر اسمبلی کا اجلاس طلب کیا اور ایجنڈہ کی ترجیحات کا تعین کیا۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’ یہ ہندوستان کی تاریخ کا ایسا واقعہ ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ کسی صدر جمہوریہ یا گورنر نے کابینی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ یا اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔‘‘ لیکن ارونا چل میں ایسا کرنے والے گورنر کو فی الفور برطرف کردیا جانا چاہیئے۔غلام نبی آزاد نے کہا ’’ دستور کی دھجیاں اُڑادی گئیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و قانون ریاست کا معاملہ ہے اور ضرورت پڑنے پر صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت ہی نیم فوجی فورسیس اور فوج روانہ کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔ لیکن ایک منتخب حکومت کے رہتے ہوئے نیم فوجی فورسیس یا فوج کی طلبی کیلئے کورٹ کی طرف سے کبھی بھی کوئی درخواست نہیں کی جاسکتی۔ ارونا چل پردیش میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخبہ حکومت موجود ہے جس کے باوجود گورنر نے نیم فوجی فورسیس کو طلب کرلیا اور افسوس کہ حکومت نے بھی ان ( گورنر ) کی درخواست سے اتفاق کرلیا۔ ٹی آر ایس رکن کے کیشو راؤ نے کہاکہ ہائی کورٹ رولنگ  نے ثابت کردیا ہے کہ دستور کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اگر اس حد تک وحشیانہ انداز میں دستور کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو ایوان کیا کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT