Sunday , August 20 2017
Home / سیاسیات / گورنر ارونا چل پردیش کے متنازعہ رول پر راجیہ سبھا میں احتجاج

گورنر ارونا چل پردیش کے متنازعہ رول پر راجیہ سبھا میں احتجاج

چیف منسٹر سے مشاورت کے بغیر اسمبلی اجلاس کی طلبی، اپوزیشن لیڈر کا الزام
نئی دہلی۔/15ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج گورنر ارونا چل پردیش جیوتی پرساد راج کو ا کے رول پر انگشت نمائی کی اور ان کی کارروائی کو جمہوریت اور دستور کا قتل قرار دیتے ہوئے برطرفی کے مطالبہ پر راجیہ سبھا کی کارروائی کو درہم برہم کردیا۔ جس پر حکمران جماعت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے یہ شکایت کی کہ ریاستی حکومت کی سرگرمیوں میں گورنر کی بیجا مداخلت اور خود سے ایجنڈہ کا فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلی کا سرمائی اجلاس طلب کیا ہے جبکہ اس خصوص میں ریاستی حکومت سے کوئی درخواست نہیں کی ہے۔

گورنر ارونا چل پردیش کے طرز عمل کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ریاست میں ایک انتہائی غیر جمہوری واقعہ پیش آیا ہے جوکہ برطانوی دور حکومت میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت یا چیف منسٹر سے مشاورت کئے بغیر گورنر نے اسمبلی اجلاس طلب کیا ہے اور گورنر نے خود ایجنڈہ طئے کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسپیکر ایوان کی صدارت نہ کرے۔ جو کہ گورنر کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمہوریت کا قتل کردیا گیا ہے اور 15دن قبل جس دستور سے وابستگی کا عہد کیا گیا تھا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے دفن کردیا گیا۔ لیکن ہماری پارٹی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور اپوزیشن جماعت اس کی مزاحمت کرے گی۔ غلام نبی آزاد نے جیسے ہی مسئلہ اٹھایا وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ایک ریاستی اسمبلی کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا ایک اسمبلی کی کارروائی کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنایا جاسکتا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں جوکچھ بھی ہوتا ہے اس پر ایوان میں بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی کی جانی چاہیئے۔ اگر کرسی صدارت راجیہ سبھا میں اس کی اجازت دیں گے تو مستقبل میں ریاستی اسمبلیوں میں پارلیمنٹ کی کارروائیوں کو موضوع بحث بنایا جاسکتا ہے۔ پوائنٹ آف آرڈر اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائیوں پر ایوان میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی گورنر کے رول پر بحث کی جاسکتی ہے تاہم غلام نبی آزاد نے کہا کہ ارونا چل پردیش اسمبلی کا اجلاس ہنوز شروع نہیں ہوا ہے اور انہوں نے جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ اسمبلی کی کارروائی سے متعلق نہیں ہے چونکہ راجیہ سبھا ریاستوں کی نمائندگی کرتی ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ریاستوں کے مفاد کی حفاظت کی جائے۔ واضح رہے کہ ریاستی گورنر جیوتی پرساد نے اسمبلی کا سرمائی اجلاس کل سے 18ڈسمبر تک طلب کیا اور 3نومبر کے مجریہ احکامات میں ردوبدل کیا ہے جس کے مطابق اسمبلی اجلاس 14 جنوری سے 18جنوری تک منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اپوزیشن لیڈرنے واقعات کا تسلسل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 6نومبر کو بعض کانگریس ارکان اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کو ہٹادینے کیلئے نوٹس دی تھی جو کہ کانگریس پارٹی سے وابستہ ہیں لیکن پارٹی مخالفت کرنے میں ہی ملوث ہیں

تاہم 9 دن بعد بعض بی جے پی ارکان اسمبلی نے اسپیکر کو ہٹادینے کیلئے نوٹس بھیج دی۔ مسٹر غلام نبی آزاد نے یہ ادعا کیا کہ گورنر نے از خود فیصدلہ کردیا کہ ایوان کی صدارت موجودہ اسپیکر نہیں کرسکتے اور قبل ازیں وقت اجلاس کی طلبی اسپیکر ہٹادینے کیلئے ایک قرارداد کی منظوری ہے جو کہ اسمبلی کے ایجنڈہ میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کے معاملات میں گورنر کی مداخلت بدنیتی پر مبنی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ کانگریس میں بعض باقی بشمول ڈپٹی اسپیکر موجود ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر مختار عباس نقوی نے کہا کہ انہیں ( کانگریس ) نظم و ضبط سے عاری طرز عمل کے سوا اصولی حکمرانی پر کوئی اعتماد نہیں ہے، تم لوگ پھر ایک بار نئے حربہ کے ساتھ آئے تاکہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہ دی جائے۔ دریں اثناء کانگریس کے احجاجی ارکان نے ایوان کے وسط سے واپس جانے سے انکار دیا تو ڈپٹی چیرمین نے 30منٹ کیلئے کارروائی ملتوی کردی۔

TOPPOPULARRECENT