Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / گورنر بہار رام ناتھ کووند ، این ڈی اے کے صدارتی امیدوار

گورنر بہار رام ناتھ کووند ، این ڈی اے کے صدارتی امیدوار

بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ ۔ وزیر اعظم مودی نے سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کو فون پر فیصلے سے آگاہ کیا
نئی دہلی 19 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے دلت لیڈر اور گورنر بہار مسٹر رام ناتھ کووند این ڈی اے کے صدارتی امیدوار ہونگے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ ملک کے آئندہ صدر منتخب ہوجائیں گے ۔ بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں جو آج منعقد ہوا تھا رام ناتھ کووند کو این ڈی اے کا صدارتی امیدوار منتْب کیا گیا ہے ۔ سیاسی حلقوں میں وہ کافی پسند کئے جاتے ہیں اور ان کے خاندان کی زندگی کے طرز کو بھی کافی پسند کیا جاتا ہے ۔ صدارتی انتخاب کیلئے الیکٹورل کالج میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے 48.6 فیصد ووٹ ہیں جبکہ اسے تلنگانہ راشٹرا سمیتی ‘ وائی ایس آر کانگریس اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے جیسی جماعتوں نے تائید کا تیقن دیا ہے ۔ بی جے پی سربراہ امیت شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس کو اپنے اس فیصلے سے واقف کروادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے فون پر بات کی ہے اور اس فیصلے سے واقف کروایا ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دوسری جماعتیں بھی این ڈی اے امیدوار کی تائید کرینگی ۔ کووند کے نام سے کئی حلقے حیرت میں پڑ گئے ۔ خود بی جے پی اور آر ایس ایس کے کچھ گوشوں نے بھی اس انتخاب پر حیرت کا اظہار کیا ہے حالانکہ خود آر ایس ایس کا اصرار تھا کہ ہندوتوا امیج رکھنے والے کسی شخص کو این ڈی اے صدارتی امیدوار بنایا جانا چاہئے ۔ کہا جا رہا ہے کہ امیت شاہ اور نریند رمودی نے رام ناتھ کووند کو منتخب کرتے ہوئے نہ صرف اپوزیشن کیلئے راستہ تنگ کردیا ہے بلکہ انہوں نے آر ایس ایس کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح کی علامتی سیاست کا چلن ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ جماعتوں کیلئے رام ناتھ کووند کی امیدواری کی مخالفت کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ بائیں بازو جماعتوں کی جانب سے حالانکہ اپنا امیدوار پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ان کی سنگھ پریوار سے نظریاتی جنگ ہے ۔ کئی دوسری جماعتیں جیسے جنتادل یو اور بہوجن سماج پارٹی سیاسی اعتبار سے رام ناتھ کووند کی مخالفت کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیں گی ۔ یہ جماعتیں اپنے آپ کو دلت دولت اور ان کی ہمدرد قرار دیتی ہیں۔ کووند کا انتخاب ایسے وقت میں بھی کیا گیا ہے جب اترپردیش میں دلت گروپس کی جانب سے آدتیہ ناتھ حکومت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ آدتیہ ناتھ کی حکومت میں اترپردیش میں دلتوں پر حملے ہو رہے ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دلتوں کا الزام ہے کہ اعلی ذات والوں اور گاؤ دہشت گردوں کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رام ناتھ کووند اگر منتخب ہوجاتے ہیں تو وہ ملک کے دوسرے دلت صدر ہونگے۔ اس سے قبل 1997 سے 2002 تک کے آر نارائنن صدارتی عہدہ پر فائز تھے اور وہ بھی دلت تھے ۔ رام ناتھ کووند دو مرتبہ کے راجیہ سبھا کے رکن ہیں ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے کہا کہ کووند 23 جون کو اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرینگے ۔ وہ 1994 سے 2000 اور 2000 سے 2006 تک راجیہ سبھا کے رکن ہے ہیں۔ کوند پیشہ سے وکیل تھے اور ان کا کانپور رورل ضلع سے تعلق ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ وہ ایک دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے انتہائی معمولی شروعات کی تھی ‘ ایک طویل جدوجہد کے بعد وہ یہاں تک پہونچے ہیں۔ امیت شاہ نے بتایا کہ این ڈی اے نے نائب صدارتی انتخاب پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT