Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنر ٹاملناڈو ‘مرکز کے ہاتھوں کٹھ پتلی

گورنر ٹاملناڈو ‘مرکز کے ہاتھوں کٹھ پتلی

ششی کلا کو ارکان اسمبلی کی تائید کے باوجود رکاوٹ بننے کا الزام
حیدرآباد ۔ 12؍ فبروری ( سیاست نیوز) قومی سکریٹری سی پی آئی کے نارائنا نے انچارج گورنر ٹاملناڈو سی ایچ ودیاساگرراؤ پر سنسنی خیز ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ودیاساگر راؤ مبینہ طور پر مرکزی حکومت کے اشاروں پر کٹھ پتلی بن کر کام کر رہے ہیں اور الزام عائد کیا کہ انا ڈی ایم کے کی قائدین ششی کلا کو ارکان اسمبلی کی بھرپور تائید دینے کے باوجود انہیں حکومت کی تشکیل سے روکا جا رہا ہے  جو کہ بالکلیہ طور پر غلط و نامناسب بات ہے ۔ انہوں نے ٹاملناڈو پر زور دیا کہ جب ششی کلا کے پاس ارکان اسمبلی کی مکمل اکثریت موجود ہو تو انہیں تشکیل حکومت سے روکنے کا سوال ہی کیا ہے ۔ انہیں تشکیل حکومت کا موقعہ فراہم نہ کیا جانا انتہائی غلط بات ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ غیر جمہوری اقدام بھی ہے ۔ کیونکہ جس کے پاس اکثریت موجود نہیں ہے ان کی ایماء پر بالواسطہ طور پر اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرلینے کا وقت دیا جا رہا ہے ۔ نارائنا نے ٹاملناڈو میں حکومت کی تشکیل کے مسئلہ پر جاری صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے یاد لایا کہ درحقیقت گورنر کے طریقہ کار کو ہی (گورنر نظام) منسوخ کر دینے کا بانی تلگودیشم پارٹی آنجہانی این ٹی راماراؤ کے دور حکومت سے وہ (بائیں بازو جماعتیں) مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں ۔ سکریٹری سی پی آئی نے ضلع سریکاکلم کے اودانا کے مقام پر گردے کے امراض کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجوہات کی تحقیق کروانے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت آندھراپردیش فی الفور اس مسئلہ پر کوئی اقدامات نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ماہ میں گردے کے امراض سے متاثرین کی تائید میں بڑے پیمانے پر جدوجہد (تحریک) شروع کرنے کا سخت انتباہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT