Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنر کا خطبہ بے سمت، چیف منسٹر کی ترقی پر سیاست کو ترجیح

گورنر کا خطبہ بے سمت، چیف منسٹر کی ترقی پر سیاست کو ترجیح

کے سی آر صرف منحرفوں کو کھنڈوا پہنانے میں مصروف، قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے گورنر کے خطبہ کو بے سمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف مسٹر ترقی سے زیادہ سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کونسل میں گورنر کے خطبہ پر اظہارتشکر مباحث سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کے بجائے چیف منسٹر دوسری جماعتوں سے کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کا کھنڈوا پہنانے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ کی ترقی پر چیف منسٹر سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گورنر کے خطبہ میں مجاہدین کی قربانیوں کا تذکرہ نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہی ٹی آر ایس کے ارکان نے اس پر احتجاج کیا۔ محمد علی شبیر نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کیلئے خودکشی کرنے والے افراد کے ارکان خاندان کو وعدے کے مطابق 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا بھی ادا نہیں کیا گیا جبکہ چیف منسٹر نے خود اعتراف کیا ہیکہ تلنگانہ کیلئے دو ہزار افراد نے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے 480 مجاہدین کے ارکان خاندان کو معاوضہ دیا گیا ہے۔ دریائے گوداوری پر تعمیر ہونے والے بیارج سے متعلق مہاراشٹرا سے کئے گئے معاہدے کو تاریخی معاہدہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے معاہدے 1975-1980-2012 اور 2016ء میں کئے گئے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت کے نئے معاہدے سے پراجکٹ کی لاگت 38,000 ہزار کروڑ سے بڑھ کر 83,000 ہزار کروڑ تک پہنچ گئی ہے اور پراجکٹ کی بلندی 152 میٹر سے گھٹ کر 148 میٹر ہوگئی ہے جس سے مہاراشٹرا کے مفادات کو فائدہ ہوا ہے اور تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے حکومت کی سرکاری ویب سائیٹ کو بند کرکے حق معلومات قانون کی خلاف ورزی کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا ہے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے برقی شرحوں میں اضافہ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اضافہ سے غریب عوام پر مزید دوہزار کروڑ روپئے کا مالی بوجھ عائد ہوگا۔ حکومت اس تجویز سے فوری دستبرداری اختیار کرلے۔ ڈبل بیڈروم اسکیم پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے صرف 1000 مکانات تعمیر کرتے ہوئے عوام کو سنہرے خواب دکھائے ہیں۔ حیدرآباد اور اضلاع میں دو لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرنے کا چیف منسٹر نے اعلان کیا ہے جس پر 15.700 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے لیکن گورنر کے خطبہ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ کئی سرکاری ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس کے علاوہ دوسرے عملے کی قلت ہے۔ سہولتوں اور ادویات کا فقدان ہے۔ ہر ضلع میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے گورنر کے خطبہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو شامل نہ کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے منشور میں مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں ناکام ہے۔ کانگریس کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے گئے 4 فیصد تحفظات کی سپریم کورٹ میں پیروی کیلئے حکومت کی جانب سے وکیل روانہ نہ کرنے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کا خطبہ بے سمت ہے جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT