Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / گورنر کواسپیکر کے اختیارات کچلنے کی اجازت نہیں

گورنر کواسپیکر کے اختیارات کچلنے کی اجازت نہیں

اتراکھنڈ ہائیکورٹ کی بنچ پر چیف منسٹر روات کی درخواست کی سماعت اور تبصرہ
نینیتال۔18اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے آج تبصرہ کیا کہ ریاستی گورنر کو ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیئے تھا جب کہ اسپیکر اسمبلی کارروائی سے نمٹ رہا تھا ۔ عدالت نے کہا کہ وہ (اسپیکر) ایک دستوری اتھاریٹی ہے اور اس کی آزادی میں کسی بھی دخل اندازی ممنوع قرار دی گئی ہے ۔ اس کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ یہ تبصرہ ایک دن طویل سماعت کے بعد عدالت کی ڈیویژن بنچ نے کیا جس نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک مثالی مقدمہ ہے جہاں دستوری اتھاریٹی کے دائرہ کار کا تعین کردیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر صدر جمہوریہ اور گورنر کے اختیارات مقرر ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کسی ایک اتھاریٹی کے اختیارات کو دوسری اتھاریٹی کچل نہ سکے ۔ بنچ نے جو چیف جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس وی کے بسٹ پر مشتمل تھی ‘ کہا کہ مثالی اعتبار سے گورنر کو اس معاملہ میں ملوث نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔ گورنر نے اسپیکر کو ارکان اسمبلی کی یادداشت کے بارے میں جس میں ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا تھا مکتوبات کی روانگی کا حوالگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیلیفون پر حکم دینے کے مترادف ہے ۔ اسپیکر کی آزادی میں دخل اندازی ہے جس کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ اسپیکر بھی ایک دستوری اتھاریٹی ہے ‘ ہر ایک دستوری اتھاریٹی کا ایک دائرہ کار مقرر ہے اور کسی کے بھی اختیارات کا دائرہ دوسرے کے اختیارات کے دائرہ میں دخل اندازی نہیں کرتا ۔ عدالت چیف منسٹر ہریش راوت کے درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں 26مارچ کو ریاست میں صدر راج نافذ کیا گیا تھا ‘اس سے متعلق دیگر درخواستوں کی بھی بیک وقت سماعت کی گئی ۔ عدالت نے 35ارکان اسمبلی کے مکتوب کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسئلہ کا حوالہ دیا ‘ ان میں 9باغی کانگریسی ارکان اسمبلی بھی شامل تھے جنہوں نے گورنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اسپیکر کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی کہ ووٹوں کی تقسیم کیلئے ان کے مطالبہ کو منظور کرلیا جائے ۔ یہ رائے دہی 18مارچ کو مطالبات زر بل کے سلسلہ میں ہوئی تھی ۔ گورنر نے اس موضوع پر سکریٹریٹ کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ عدالت نے مرکز سے بھی خواہش کی کہ کیا وہ مکمل طور پر خارجی عنصر نہیں ہے ۔مرکزی حکومت صرف 9باغی ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن یہ کام بھی غیر معمولی انداز میں کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT