Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنر کے خطبہ میں احتجاج پر ارکان کی معطلی کا فیصلہ دستور کے مغائر

گورنر کے خطبہ میں احتجاج پر ارکان کی معطلی کا فیصلہ دستور کے مغائر

فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ ، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا بیان
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے گورنر کے خطبہ پر احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی کو ایک سال کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کو دستور کے مغائر قرار دیتے ہوئے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا اسپیکر اسمبلی سے مطالبہ کا ہے ۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو اپنے ماضی کا محاسبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس نے کئی مرتبہ خطبہ اسپیکر کی کاپیاں پھاڑ کر احتجاج کیا تھا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان اعلیٰ مسٹر شرون کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اسمبلی میں عددی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھانے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی رولس کمیٹی نے خطبہ گورنر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کرنے اور پلے کارڈس تھام کر مظاہرہ کرنے پر انہیں ایک سال تک کے لیے ایوان کی کارروائی سے معطل کرنے کا فیصلہ کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے پر از سر نو نظر ثانی کرنے کا اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری سے مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند اظہار خیال کی مکمل آزادی ہے جس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپوزیشن کو کچلنے کے لیے اس طرح کے فیصلے کیے گئے ہیں جس کی تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ مسٹر شرون کمار نے کہا کہ گورنر کے خطبہ میں عوامی مسائل موضوع بحث نہ آئے تو اس پر اعتراض کرنے کا ارکان اسمبلی کو حق حاصل ہے ۔ پرامن احتجاج کرتے وقت حکومت کی جانب سے تعاون نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کرنے کا انہیں منتخب کرنے والے ارکان اسمبلی کو احتجاج کرنے کا اختیار دیا ہے ۔ اسی اختیار کے تحت اپوزیشن جماعتیں احتجاج کرتے ہیں تاکہ عوامی مسائل ایوان میں موضوع بحث بن سکے ۔ ماضی میں متحدہ آندھرا پردیش اسمبلی میں اسی گورنر پر ہریش راؤ ، ایٹالہ راجندر ، کے ٹی آر کے بشمول دوسرے ارکان اسمبلی نے ایوان میں بینچوں پر چڑھ کر گورنر کے خطبہ کاپی کو پھاڑ کر گورنر کے منہ پر پھینکے ہیں ۔ اس وقت متحدہ آندھرا پردیش میں اس طرح کے فیصلے کئے جاتے تو کیا ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو اسمبلی میں تلنگانہ کا مسئلہ اٹھانے کی اجازت ملی تھی ۔ ٹی آر ایس حکومت اس پر غور کریں ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں اظہار خیال کی مکمل آزادی دیتے ہوئے سارے ملک میں تلنگانہ کو مثالی ریاست بنانے کے بجائے ایوان میں عوامی مسائل اٹھانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو دستور نے جو اختیارات دئیے ہیں اس سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ گورنر کے خطبہ پر احتجاج کرنا غلط ہے تو ماضی میں ہریش راؤ ، ایٹالہ راجندر نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب غلط ہونے کا کیا ٹی آر ایس اعتراف کرے گی ۔ تلنگانہ حکومت سے انہوں نے استفسار کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT