Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنمنٹ جونیر کالج مہیشورم کے طلبہ کا مستقبل ایک ہی مضمون تک محدود

گورنمنٹ جونیر کالج مہیشورم کے طلبہ کا مستقبل ایک ہی مضمون تک محدود

نئے مضامین کی عدم منظوری ، سینکڑوں طالبات تشویش کا شکار
حیدرآباد۔24جولائی (سیاست نیوز) 2008سے 2017کے درمیان ملک و ریاست میں دو انتخابات ہو چکے ہیں اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتیں تبدیل ہوچکی ہے اور دونوں ہی حکومتیں لڑکیوں کے تعلیم کے فروغ کے دعوے کرنے والی ہیں لیکن دونوں ہی حکومتوں کی جانب سے گورنمنٹ جونیر کالج مہیشورم کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات تاحال نہیں کئے گئے جس کے سبب اس کالج میں تعلیم حاصل کر رہی طلبہ کا مستقبل صرف ایک مضمون کی حد تک محدود ہو چکا ہے اور انہیں سی ای سی کے علاوہ کوئی اور مضمون میں داخلہ حاصل نہیں ہوتا جس کے سبب علاقہ کی مسلم لڑکیوں کے لئے موجود اس کالج میں دیگر مضامین میں داخلہ کی خواہشمند طالبات اس کا رخ نہیں کر سکتی کیونکہ 9سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود اس کالج میں نئے مضامین کو منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کیلئے موجود سہولتیں ناکافی ہونے کے سبب اس کالج میں مزید کوئی مضامین شروع نہیں کئے جا رہے ہیں لیکن گذشتہ دو برسوں سے سینکڑوں طالبات اس کالج میں داخلہ حاصل کرنے کی خواہش میں کالج پہنچ رہی ہیں لیکن انہیں کوئی موقع میسر نہیں آرہا ہے۔ گورنمنٹ جونیئر کالج مہیشورم میں مضامین اور طالبات کی تعداد میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات نہ کئے جانے کے متعلق محکمہ تعلیمات اور بورڈ آف انٹر میڈیٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں غور کیا جا رہا ہے لیکن 9سال کے بعد بھی اگر محکمہ کے عہدیدار صرف غور کررہے ہیںتو کیسے توقع کی جائے گی کہ آئندہ تعلیمی سال سے مضامین اور نشستوں میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں گے؟ حکومت تلنگانہ کو بھی اس مسئلہ سے متعدد مرتبہ واقف کروایا جا چکا ہے اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو منتخبہ عوامی نمائندوں کے توسط سے متوجہ کروایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسئلہ کی عدم یکسوئی پر مقامی عوام بالخصوص طالبات و اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں لڑکیوں کی تعلیمی ترقی کے متعدد اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود ریاست کے دارالحکومت میں موجود ایک کالج کی اس صورتحال کے متعلق کوئی اقدامات نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کو پرانے شہر کے لڑکیوں کی تعلیمی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیںہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اگر اس کالج میں اضافی نشستوں کو منظوری دیتے ہوئے کالج میں موجد سی ای سی کے علاوہ ایم پی سی‘ ایچ ای سی‘ ایم ای سی ‘ بی پی سی وغیرہ کو منظوری دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بارکس‘ مہیشورم‘ بندلہ گوڑہ‘ حافظ بابا نگر‘ شاہین نگر کے علاوہ اطراف کی لڑکیوں کو جونیئر کالج میں داخلہ حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ مقامی عوام و سماجی کارکنوں نے منتخبہ عوامی نمائندوں اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ پر خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے اس کی یکسوئی کو ممکن بنائیں تاکہ پرانے شہر کی لڑکیوں کیلئے تعلیم کے حصول کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔

TOPPOPULARRECENT