Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / گورکھالینڈ احتجاج ‘ جی ٹی اے دفتر اور ریلوے اسٹیشن نذر آتش

گورکھالینڈ احتجاج ‘ جی ٹی اے دفتر اور ریلوے اسٹیشن نذر آتش

دارجلنگ 13 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) علیحدہ گورکھالینڈ کا مطالبہ کرنے والے احتجاجیوں نے آج جی ٹی اے کے ایک دفتر اور ایک ریلوے اسٹیشن کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے محکمہ جنگلات کے ایک بنگلے کو بھی نذر آتش کرنے کے علاوہ کئی گاڑیوں کو نقصان پہونچایا ۔ اس کے علا وہ یہاں تشدد اور آگ زنی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہاں گذشتہ 29 دن سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال چل رہی ہے ۔ ان پہاڑی علاقوں میں حکومت کی جانب سے تین فوجی کالموں کی تعیناتی کے باوجود تشدد کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہاں دارجلنگ ‘ کالمپونگ اور سوناڈا میں تین فوجی کالموں کو متعین کیا گیا ہے ۔ این فوجی دستوں اور پولیس کے دستوں کی یہاں علیحدہ تعیناتی ہے ان کی جانب سے پٹرولنگ کا سلسلہ بھی چل رہا ہے ۔ یہاں سینکڑوں احتجاجیوں نے نیپالی شاعر بھانو بھکتا اچاریہ کی نظموں کو گنگناتے ہوئے ریلی منظم کی ۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی تھے جن پر علیحدہ گورکھا لینڈ کی حمایت میں نعرے تحریر تھے ۔ گورکھا جن مکتی مورچہ اور دوسری پہاڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نیپالی شاعر کی یوم پیدائش تقاریب کا آج احتجاج کے دوران انعقاد عمل میں لایا گیا تھا ۔ پہاڑی علاقوں میں گذشتہ 26 دن سے مسلسل انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ اس سے ادویات کی دوکانوں کو استثنی دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری دوکانیں ‘ ریسٹورینٹس ‘ اسکولس ‘ کالجس ‘ ہاسٹلس اور خانگی دفاتر بھی یہاں بند ہیں۔ آج کے ہجوم نے صبح کے وقت احتجاج کے دوران گورکھالینڈ علاقائی اتھاریٹی کے دفتر کو مال روڈ پر نذر آتش کردیا گیا ۔ یہاں سے سیاحتی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ یہاں انہو ںنے کئی سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہونچایا ۔اس طرح کی سرگرمیوں کا کل رات سے ہی آغاز ہوگیا تھا ۔ کیورسیونگ میں آج صبح کے وقت ایک ریلوے اسٹیشن کو بھی نذر آتش کردیا گیا ۔ ساتھ ہی محکمہ جنگلات کے بنگلے کو بھی آگ لگا دی گئی ۔ دارجلنگ میں نیشنل ہائیڈل پاور کارپویرشن کی جانب سے رمدی میں اپنا پاور پلانٹ بند کردیا گیا ہے کیونکہ یہاں احتجاجی عوام کی جانب سے اس کے پلانٹ پر بھی حملہ کیا گیا تھا ۔ ریاست کے وزیر تعلیم پارتھا چٹرجی نے یہاں پرتشدد سرگرمیوں کی شدید مذمت کی ہے اور امن کے قیام پر زور دیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT