Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / گورکھپور سانحہ ‘ آکسیجن سپلائی روکنے کیلئے خانگی کمپنی ذمہ دار

گورکھپور سانحہ ‘ آکسیجن سپلائی روکنے کیلئے خانگی کمپنی ذمہ دار

ضلع انتظامیہ کی انکوائری ‘ بچوں کی اموات کی وجہ اور اس کے ذمہ داروں پر رپورٹ خاموش ‘ پرنسپل اور دوسرے عہدیداروں پر تنقید

لکھنو / گورکھپور 17 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) گورکھپور ضلع انتظامیہ کی جانب سے کی گئی ایک انکوائری میں لکھنو سے کام کرنے والی ایک فرم کو بابا راگھو داس میڈیکل کالج میں آکسیجن کی سپلائی روک دینے کی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ اس انکوائری میں کہا گیا ہے کہاس معاملہ میں معاشی بے قاعدگیاں بھی سامنے آئی ہیں اور لاگ بکس میں تحریریں بھی درست نہیں ہیں۔ یہ انکوائری 10 اگسٹ کو دواخانہ میں آکسیجن سپلائی روک دینے کے مسئلہ پر ہوئی تھی جس میں 23 بچے اس دن ہلاک ہوگئے تھے ۔ پانچ رکنی پیانل نے کہا کہ محکمہ انیستھیسیا کے سربراہ ڈاکٹر ستیش کمار اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے بادی النظر میں مرتکب ہیں ۔ رپورٹ میں چیف فارماسسٹ گجانن جیسوال اور پرنسپل میڈیکل کالج ڈاکٹر راجیو مشرا کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں اموات کی وجہ کے تعلق سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان اموات کیلئے کون ذمہ دار ہے ۔ تاہم اس پیانل میں شامل ڈاکٹر رویندر کمار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ان بچوں کی اموات آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ آکسیجن سپلائی روکنے کیلئے کمپنی ایم ایس پشپا سیلس پرائیوٹ لمیٹیڈ ذمہ دار ہے کیونکہ اسے آکسیجن سپلائی نہیں روکنی چاہئے تھی کیونکہ زندگی اور موت کا سوال رہتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دواخانہ میں اے ای ایس وارڈ کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر کفیل خان نے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر ستیش کمار کو تحریر میں مطلع کیا تھا کہ وارڈ کا اے سی کام نہیں کر رہا ہے لیکن اس کی بروقت درستگی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ڈاکٹر ستیش انیستھیسیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ تھے اور وہ 11 اگسٹ کو کسی تحریری اجازت کے بغیر دواخانہ سے غیر حاضر تھے ۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہ آکسیجن کی بلا رکاوٹ سربراہی کے ذمہ دار تھے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ستیش اپنے فرائض سے تغافل برتنے کے مرتکب رہے ہیں۔ ایک اور خامی کی سمت نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈاکٹر ستیش اور چیف فارماسسٹ گجانن جیسوال کا کام تھا کہ وہ آکسیجن سلینڈرس کی لاگ بک اور اسٹاک بک میں اندراج کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور بک میں تحریر بھی خلط ملط تھی ۔ کمیٹی نے کہا کہ لاگ بک کے انچارچ ڈاکٹر ستیش نے لاگ بک پر دستخط نہیں کئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مسئلہ کو نہ ڈاکٹر ستیش نے اور نہ پرنسپل نے سنجیدگی سے لیا ہے ۔ رپورٹ کے بموجب پرنسپل ڈاکٹر مشرا 10 اگسٹ کو ہیڈ کوارٹرس پر دستیاب نہیں تھے جبکہ ڈاکٹر ستیش 11 اگسٹ کو کسی اجازت کے بغیر ممبئی روانہ ہوگئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ دونوںعہدیدار میڈیکل کالج سے جانے سے قبل اس مسئلہ کو حل کردیتے تو یہ حالات پیدا نہیں ہوتے ۔ دونوں ہی عہدیداروں کو اس بات کی اطلاع ہونی چاہئے تھی کہ کمپنی کی جانب سے آکسیجن سپلائی روک دی گئی ہے ۔ کمیٹی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مشرا نے امراض اطفال شعبہ کی حساس نوعیت کے باوجود یہاں سہولیات ‘ مینٹیننس اور ادائیگیوں پر کوئی توجہ نہیں رکھی تھی ۔ کمیٹی نے کہا کہ آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی نے بارہا ادائیگیوں پر توجہ دلائی اور 5 اگسٹ کو ہی بجٹ دستیاب بھی تھا اس کے باوجود یہ بلز پرنسپل تک روانہ نہیں کئے گئے اس کیلئے تین افراد جن میں اکاؤنٹس سیکشن کے دو افراد بھی شامل ہیں بادی النظر میں ذمہ دار ہیں۔ کمیٹی نے شعبہ طبی تعلیم کی آڈٹ اور اعلی سطح کی تحقیقات کروانے کی بھی سفارش کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT