Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / گورکھپور میں دماغی بخار ، مہلوکین کی تعداد 435پر پہنچ گئی

گورکھپور میں دماغی بخار ، مہلوکین کی تعداد 435پر پہنچ گئی

گورکھپور ۔8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مشرقی اترپردیش کے گورکھپور میں واقع بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران دماغی بخار سے متاثر مزیدسات بچوں کی موت ہو جانے کے ساتھ ہی اس سال اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 435 ہو گئی ہے ۔سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں علاج کے دوران دماغی بخار سے مرنے والوں میں کشی نگر ضلع کے تین اور گورکھپور، دیوریا، بستی، سنت کبیر نگر ضلع کا ایک ایک بچہ شامل ہے ۔گزشتہ یکم جنوری سے اب تک دماغی بخار سے متاثر1686 مریضوں کو بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا جن میں سے 435 بچوں کی موت ہو چکی ہے ۔میڈیکل کالج میں اس دوران 20 نئے مریضوں کو علاج کے لئے داخل کیا گیا ہے جبکہ میڈیکل کالج میں اس وقت اس سے متاثر 85 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے ۔ میڈیکل کالج میں علاج کے لئے آنے والوں میں گورکھپور اور بستی کے سات اضلاع کے علاوہ اعظم گڑھ، بلیا، گوڈا، مؤ، غازی پور، بلرام پور، امبیڈکر نگر، بدایوں سے لے کر جھارکھنڈ، بہار اور پڑوسی ملک نیپال کے بھی مریض داخل ہوئے ہیں۔

 

آلودگی کے مسئلہ پر تین ریاستوں کی سرزنش
نئی دہلی ۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)نیشنل گرین ٹریبونل(این جی ٹی) نے آلودگی سے نمٹنے کے طریقوں کے سلسلے میں دہلی سمیت پڑوسی ریاستوں ہریانہ اور پنجاب کی حکومتوں کو بھی سخت پھٹکار لگائی ہے ۔ این جی ٹی نے آلودگی سے نمٹنے کے لئے دہلی حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آلودگی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے او ر اس لئے موثر اقدامات نہیں ہوپارہے ہیں۔اس نے یہ سوال بھی کیا کہ سڑکوں پر پانی چھڑکنے کے بجائے یہ کام ہیلی کاپٹروں سے کیوں نہیں کیا جارہا ہے ۔این جی ٹی نے اس موقع پر دہلی حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ اس کے پاس ایسے کوئی اعدادو شمار ہیں جس سے ہے پتہ لگتا ہو کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ کی گئی کوششوں سے دھند او رآلودگی میں کوئی کمی آئی ہے ۔ اس نے یہ سوال بھی کیا کہ یہ جاننے کے باوجود کہ پوال جلانے اور دیوالی کے بعد ہر سال آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اگست یا ستمبر میں کوئی میٹنگ کیوں طلب نہیں کی گئی ۔ ٹریبونل نے دہلی حکومت کے ذریعہ اسکول بند کئے جانے کے اقدامات پر سوال اٹھائے اور کہا کہ گھر میں بیٹھنے سے کیا بچے بچ جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT