Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / گورکھپور کی سیاہ رات کا مسیحا ڈاکٹر کفیل احمد

گورکھپور کی سیاہ رات کا مسیحا ڈاکٹر کفیل احمد

 

محمد غوث علی خاموشؔ
اترپردیش صوبہ کے گورکھپور دواخانہ میں حکومت کی لاپرواہی سے جو 72 معصوموں کی جانیں ضائع ہوئیں اور ملک بھر کی نظریں صرف اسی حادثہ واقعہ کو جانتی ہیں لیکن اس سیاہ رات میں ایک فرشتہ نما ڈاکٹر کفیل احمد جس نے بے لوث جذبہ خدمت کے جواہر بکھیرے ہیں، مگر افسوس کہ زعفرانی سیاست نے ان کی انتھک جدوجہد کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے اُلٹا انہیں ہی خدمات سے معطل کردیا ۔ ڈاکٹر کفیل احمد نے اس سیاہ رات میں جس قدر معصوموں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے محنت کی ہے وہ ناقابل فراموش ہیں اور ہر شخص کے زبان سے گورکھپور میں ان کیلئے دعا نکل رہی تھی لیکن ریاستی زعفرانی حکومت ان کی جان توڑ کوششوں کی ستائش کرنے کے بجائے اپنی لاپرواہی پر پردہ ڈالنے کیلئے انہیں ہی خدمات سے دور کردیا ۔ اسی لئے راقم گورکھپور کی سچائی اور فرشتہ نما ڈاکٹر کی مثالی ہمدردی جاننے کے بعد اپنے قلم کو جنبش دینے کی جراء ت کی ہے تاکہ ایک ہندوستانی مسلمان کے جذبہ انسانی سے تمام کو آگاہی ہو۔ ورنہ انسانیت کا جذبہ ماند پڑجائے گا ۔ گورکھپور دواخانہ میں 10 اگست کی رات کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں، 10 اگست کی آدھی رات کو گورکھپور کے BRD میڈیکل کالج میں وارڈ نمبر 100 کا ایک کے بعد ایک معصوم موت کی آغوش میں جارہا تھا ۔ ایسے وقت رات کے تقریباً دو بجے ڈاکٹر کفیل احمد کو جو اطفال سیکشن کے ڈاکٹر ہیں ، دواخانہ عملہ نے فون کرتے ہوئے یہ اطلاع دی کہ آکسیجن سلینڈرس جو معصوم بچوں کو لگے ہیں اور ایک گھنٹہ میں ختم ہوجائیں گے ۔ نرسوں نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کی حالت کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے ۔ بیمار بچوں کو لگاتار آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر یہی نہیں تو پھر بچوں کی حالت کیا ہوگی ۔ فون سننے کے بعد ڈاکٹر کفیل احمد فوری ودڑتے ہوئے اپنی کار لیتے ہوئے اپنے دوست کے دواخانہ پہنچے اور وہاں سے تین بڑے آکسیجن سلینڈرس کو اپنی کار میں ڈال کر نکل پڑے اور رات دیر گئے تین بجے تک دواخانہ پہنچ گئے ۔ اطفال سیکشن میں معصوموں کو آکسیجن لگادیا ۔ مگر دواخانہ میں موجود 80 معصوم بچوں کو یہ آکسیجن صرف آدھا گھنٹہ تک ہی کام آئے گا۔ اس کے بعد معصوموں کی حالت مزید بگڑنے لگی اور معصوم تڑپنے لگے ، آکسیجن سلینڈرس حاصل کرنے کی کوئی امیدنظر نہ آنے پر ڈاکٹر کفیل احمد پر غم کا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا اور یہ بے چین تھے کہ معصوموں کی زندگی کو کس طرح خطرہ سے باہر نکالا جائے ۔ کشمکش میں مبتلا رہے ، چاہتے تو ڈاکٹر کفیل احمد اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو اطلاع کر کے چپ بھی رہ سکتے تھے مگر ان کی غیر معمولی ذمہ داری کا احساس دیکھتے، اپنے جونیئر ڈاکٹروں کو فون کر کے فوری دواخانہ طلب کیا اور معصوموں کو چھوٹے پمپ والے امیو بیاگ کا استعمال کرتے ہوئے آکسیجن پمپنگ کرنے کے احکامات دیئے ، اس کے ساتھ ساتھ آکسیجن سلینڈروں کے کنٹراکٹرس کو لگاتار فون کرتے رہے تاکہ کہیں سے کوئی انتظام ہوجائے اور معصوم زندگیاں بچ سکیں۔ علی الصبح ڈاکٹر کفیل احمد شہر کے مختلف دواخانوں کا رخ کر کے دوستانہ تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اور چند دواخانوں میں اپنے ذاتی روپئے خرچ کرتے ہوئے 12 آکسیجن سلینڈروں کو حاصل کیا۔ دواخانہ پہنچ ان سلینڈروں کو وارڈ میں لگادیا گا ۔ اتنے میں ڈاکٹر کفیل احمد کو ایک آکسیجن سلینڈرس کے کنٹراکٹر کا فون آتا ہے اور یہ کچھ سلینڈرس دینے تیار ہوتا ہے لیکن اسے آکسیجن کی رقم نقد شکل میں ادا کرنے کا ڈیمانڈ کرتا ہے جس کو ڈاکٹر فوری قبول کرتے ہوئے اپنے عملہ کے ایک فرد کو اپنا ATM کارڈ اور ویان گاڑی دیتے ہوئے ATM سے دس ہزار روپئے رقم نکال لانے کو کہتے ہیں اور ان روپیوں کو دیکر کچھ سلینڈرس حاصل تو کرلیئے مگر یہ بھی چند گھنٹہ ہی معصوموں کو زندہ رکھ پائے ۔ کئی زندگیوں کو علاج کے ذریعہ بچانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈاکٹر کفیل احمد کی آنکھوں کے سامنے ہی کچھ معصوموں نے دم توڑ دیا ۔ جان بچانے والے ڈاکٹرس تو تھے لیکن آکسیجن میسر نہ تھا جس پر مجبور و بے بس ڈاکٹر کفیل احمد وارڈ کی دیوار سے ٹیک لگائے رونے لگے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، سینہ غم سے بھرچکا تھا کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی آکسیجن کا انتظام نہ ہوسکا ۔ بچوں کے ماں باپ جو ڈاکٹر کفیل احمد کی انتھک کوشش و بے لوث خدمت کا نظارہ کر رہے تھے ، انہیں مسیحا کہنے لگے یہ نہ ہوتے تو رات میں ہی تمام معصوم موت کی نیند میں چلے جاتے ۔ بچوں کے ماں باپ کی ان کیلئے دعائیں نکل رہی تھیں، لیکن افسوس کے اس سیاہ رات کے مسیحا کو اترپردیش کی سرکار نے بجائے سراہنے کے انہیں خدمات سے معطل کردیا ۔ اس کے باوجود ڈاکٹر کفیل احمد نے سچے ہندوستانی ہونے کے ناطہ یہ کہا کہ خدمات سے نکال دینے کا مجھے کوئی افسوس نہیں ہے ، لیکن معصوموں کی جان بچا نہ سکے جس کا بڑا دکھ ضرور ہے ، جبکہ ان کی مثالی کوششوں سے ہی کچھ معصوموں کی جان بچی ، مگر زعفرانی سیاستدانوں کو مسلمان کے جذبہ خدمت سے کب دلچسپی رہی ، جبکہ معصوم بچوں کے ماں باپ یہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک مسیحا کا کام کیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر اس آواز کو سننے والا کوئی نہ تھا ۔ ہاں یہ ضرور محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگر ڈاکٹر کفیل احمد کوئی غیر مسلم ہوتے تو ضرور ملک بھر میں ان کے چرچے ہوتے اور ستائش کی جاتی کہ ایک فلاں ڈاکٹر نے رات بھر انتھک کوشش کرتے ہوئے ذاتی روپئے خرچ کر کے معصوموں کی جان بچائی کیونکہ یوگی کی سرکار میں مسلمانوں کے جذبہ و حوصلہ کی تعریف ناممکن ہے ۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ 10 اگست کی رات سے شروع ہوا اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ 9 اگست کو ہی گورکھپور کے اس دواخانہ کا دورہ کرچکے تھے تو کس طرح وہاں کے مسائل سے یوگی آگاہ نہ ہوسکے کیونکہ سیر کرنے کی غرض سے تو دواخانہ نہیں گئے تھے ۔ پھر مکمل جانکاری حاصل کرنا کیوں ضروری نہ سمجھا جبکہ وزیر صحت بھی ضرور ان کے ہمراہ ہوں گے ۔ اس قدر انسانی صحت سے متعلق نیم دلچسپی اور ہر روز گاؤ شالہ کے گائیوں کا چارہ کھلا کر وزیر اعلیٰ خوب خیال رکھتے ہیں ۔ ان کی صبح ہوتی ہی ہے جانوروں کی خدمت سے ، تو انسانوں سے کیا ہمدردی رہے گی لیکن ریاست کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ 72 معصوم بچوں کی جانوں کے ذمہ دار رہیں گے ۔ اس عظیم لاپرواہی پر وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کو عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے تھا ، اس کے برخلاف صرف دواخانہ کے ڈاکٹروں کو مورد الزام ٹھہرانا کہاں کا انصاف ہے ، اس لئے کہ آکسیجن سلینڈروں کی کمی کی اعلیٰ عہدیداروں کو نوٹس بھی دیگئی تھی ۔ اس کے باوجود ذمہ داروں نے لاپرواہی سے ملک پر بدنما داغ لگادیا ۔ اترپردیش کے وزیر صحت صرف لال بہادر شاستری کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں لیکن سیاست میں شاستری جی کے اعلیٰ اخلاق کی تقلید نہیں کرتے۔ شاستری جی نے ریلوے حادثہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ اس سانحہ سے یہ ضرور ثابت ہوچکا ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ کو دواخانوں سے زیادہ گاؤ شالوں سے دلچسپی ہے فکر ہے ، بہرحال اترپردیش کے گورکھپور میں 10 اگست کی سیاہ رات میں ایک فرشتہ نما مسیحائی ڈاکٹر کفیل احمد جن کی ناقابل فراموش جذبہ انسانیت و خدمات کو ہمارا سلام ، خدمت خلق کا بہترین نمونہ جس پر یہ قوم ناز کرتی ہے کیونکہ خدمت خلق ہی بہترین عبادت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT