Wednesday , October 18 2017
Home / Editorial News / گوشت پر فرقہ پرستانہ تجارت

گوشت پر فرقہ پرستانہ تجارت

وہ وطن پر مٹ گئے اور یہ مٹادیں گے وطن
جانتے ہو کس طرف میرا اشارہ ہے میاں
گوشت پر فرقہ پرستانہ تجارت
مسلمانوں کو گائے کا گوشت نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہوئے ہریانہ کے چیف منسٹر منوہر لال کھترا نے کہا کہ گائے ہندوستان کی ایک مذہبی علامت ہے۔ لہٰذا مسلمان اگر ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں گائے کا گوشت کھانا ترک کرنا ہوگا۔ بی جے پی کی صف میں ایسے فرقہ پرست قائدین جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو ہر نازک مسئلہ پر چیختے چنگھاڑتے ، نامناسب اور غیر مہذب بیانات دے کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ گائے کے گوشت پر پابندی، گوشت کھانے والوں کو زدوکوب کرکے ہلاک کردینا اور گوشت کھانے پر مسلمانوں کو ملک چھوڑ دینے جیسے بیانات واقعات سے ظاہر ہورہا ہے کہ ہندوستان کا مستقبل بھیانک حالات کا سامنا کرنے والا ہے۔ چیف منسٹر ہریانہ نے انگریزی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ کو فوری بھانپ کر کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا اور اس کی اشاعت بھی غلط تناظر میں عمل میں آئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہیکہ بی جے پی کے لیڈر نے یہ ریمارک اس وقت کیا تھا جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ اترپردیش کے موضع بساڈا میں گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلم شخص کو زدوکوب کرکے ہلاک کیا گیا اس طرح کا واقعہ آیا ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا دے گا۔ منوہر لال کھترا نے گوشت کے مسئلہ پر راست جواب دیتے ہوئے یہی کہا تھا کہ مسلمانوں کو اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو گائے کا گوشت کھانا چھوڑنا ہوگا۔ بغیر گوشت کھائے بھی وہ مسلمان ہی رہیں گے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ انہیں اس ملک میں کس طرح رہنا ہے اور کس طرح نہیں۔ بی جے پی قائدین کا آر ایس ایس، سنگھ پریوار نظریات کا پرچار کرنا ان کی پارٹی کی پالیسی کا حصہ ہے تو انہیں اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کا حق ہیں رہ جاتا کیونکہ جو بھی اعلیٰ عہدہ حاصل کرتا ہے وہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے دستورہند پر حلف لیتا ہے کہ وہ بحیثیت سے عوامی نمائندہ ہندوستانی دستور کا تحفظ کرنے اور دستور میں دیئے گئے تمام مراعت سہولتوں سے ہندوستانی عوام کو مستفید ہونے کا موقع دے گا مگر جب سے مرکز اور بعض ریاستوں میں بی جے پی کی حکمرانی ہے، گاؤکشی کے مسئلہ پر مسلمانوں کو نشانہ بنا کر انہیں زچ کیا جارہا ہے۔ ہندوستان کی بڑی آبادی مسلمانوں اور عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ انہیں کیا کھانا چاہئے کیا نہیں کھانا چاہئے اس کا اختیار خود انہیں دیا گیا تو پھر دستور ہند اور جمہوریت میں دی گئی آزادی کا کیا مطلب رہ جائے گا۔ گائے کے گوشت کو سیاسی رنگ دے کر حکومت کرنے والے قائدین ہندوستانی معاشرے کو ایک خاص جذبات سے مجروح کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اترپردیش میں محمد اخلاق کا قتل ساری دنیا کے سامنے ہندوستان کی اقلیتوں کی تشویشناک کیفیت کو نمایاں کرچکا ہے مگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ہندوستان کے اندر ہونے والے ایسے واقعات کا کوئی نوٹ نہیں لیتی یا ایسے واقعات کو روکنے کے اقدام نہیں کرے گی تو پھر زعفرانی ٹولے کے منصوبے اور پالیسیاں اس ملک کی شبیہہ کو مسخ کردیں گی۔ وزیراعظم نریندر مودی کو اس بات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ ان کی حکومت میں گوشت کا مسئلہ سنگین بنایا جارہا ہے اور خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں گاؤکشی پر پابندی ہے۔ ہریانہ میں بھی گاؤکشی جرم ہے۔ اگر کوئی گائے کا ذبح کرتا ہے تو اسے 10 سال کی قید کی سزاء دی جائے گی اور کوئی گوشت کھاتا ہے تو وہ 5 سال کیلئے جیل میں ہوگا۔ ایسے فیصلے اور احکامات دستورہند کے بنیادی اصولوں کے مغائر ہیں مگر جب اسمبلیوں میں قانون پیش ہوتا ہے تو اپوزیشن پارٹیاں صرف احتجاج کرتی ہیں اور بالآخر حکومت اپنی اکثریتی طاقت کے ذریعہ قوانین منظور کرالیتی ہے۔ ہندوستان میں گائے پر سیاست کرنے کا چلن نیا نہیں یہ۔ یہاں گائے بچاؤ کی پہلی باقاعدہ مہم سکھوں کے ایک فرقہ نے 1870 میں شروع کی تھی۔ اس کے بعد 1882 میں ایک ہندو مذہبی رہنما دیانند سرسوتی نے پہلی ’’کمیٹی برائے گائے بچاؤ‘‘ بنائی تھی، جس کے بعد سے مسلمانوں کے ہاتھوں گائے کے ذبح کے خلاف تحریک شروع کی گئی اور فسادات بھی کروائے گئے۔ 1966ء اور 1979ء میں گائے کے مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے انسانی جانیں لی گئی تھیں۔ مہاتما گاندھی کے بڑے پیروکار ونوبا بھاوے نے گائے ذبح پر پابندی عائد کرنے کی تحریک میں بھوک ہڑتال بھی کی تھی لیکن ہندوستانی عوام نے ایسی تحریکوں کو خاطر میں نہیں لایا اور سیکولرازم کو فروغ دیتے ہوئے دستورہند میں دی گئی آزادی سے استفادہ کرنے کیلئے ہر شہری کو موقع دیا گیا۔ اب جب سے مرکز میں نریندر مودی حکومت آئی ہے گاؤکشی کا مسئلہ اہم موضوع بن گیا ہے۔ اچھے دن لانے کا وعدہ کرنے والے مودی اپنی حکومت کی ناکامیوں اور حکمرانی کے فرائض کی تکمیل میں کوتاہیوں کو پوشیدہ رکھنے ہندوستانی عوام کی توجہ گائے کے گوشت کی طرف ہی مبذول کرتے ہوئے ان کی سوچ کو مصروف رکھنے کی خفیہ مہم شروع کرچکے ہیں ان کا ساتھ دینا ہر بی جے پی رکن کی ذمہ داری بن گئی ہے۔ اسی لئے ہر روز کوئی نہ کوئی بی جے پی لیڈر مسلمانوں کے خلاف بیان دیتا ہے۔ چیف منسٹر ہریانہ کا مسلمانوں کے خلاف کیا گیا ریمارک ہندوستان کی سیاست میں گوشت کا بازار لگا کر اپنا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ جمہوری ملک میں ہر شہری کو کھانے پینے، اپنے مذہب پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے مگر فرقہ پرست ٹولہ اس دستوری و جمہوری آزادی کو چھین لینے کی کوشش کررہا ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہئے۔
عدلیہ کی آزادی
سپریم کورٹ نے عدلیہ میں سیاست کے عمل دخل کو روکنے کی غرض سے نریندر مودی حکومت کے اس فیصلہ کو مسترد کردیا کہ مرکزی حکومت ججس کے تقررات کیلئے ججس کو دیئے گئے اختیارات اپنے ذمہ لینا چاہتی ہے۔ عدلیہ کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کی غرض سے ہی سپریم کورٹ نے سیاستدانوں کی نیت کو بھانپ کر فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے ججس کے تقررات کیلئے نظام کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے اور جوابدہ بنانے کیلئے اصلاحات کو ضروری قراردیا۔ سپریم کورٹ کے اس اقدام سے اکثریتی حکومت کے ساتھ تصادم کا راست راستہ کھلے گا۔ مودی حکومت نے ججس کے تقررات کے اختیار کو اپنے ہاتھ لینے کا فیصلہ کیا تھا اس کے علاوہ ججس کے لئے دوسرا قانون بنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سرکاری وکلاء کیلئے صدمہ خیز یا دھکہ ہے۔ عدالت عالیہ نے مودی حکومت کی جانب سے منظورہ قوانین اور دستور میں تبدیلیوں کے علاوہ قومی عدلیہ تقرراتی کمیشن کی تشکیل دینے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ مودی حکومت کے لائے جانے والے نئے نظام سے عدالتی عمل میں سیاست کی مداخلت ہونے کا خطرہ ہے اور اس سے عدلیہ کی آزادی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ مودی حکومت جب غیردستوری کام انجام دے گی تو عدلیہ کی جانب سے سرزنش کیا جانا یقینی ہے۔ نئے سسٹم کے آمریت پسندوں کے سیاسی عناصر نے ججس کو اپنے زیراثر رکھنے کیلئے ایسے قانون کو لانے کی کوشش کی ہے جس کا استرداد کرنے سے عدلیہ کو مزید شفاف اور جوابدہ بنانے میں مدد ملے گی۔ عدلیہ میں ججس کے تقررات کو شفاف بنانے اور عوام کے سامنے جوابدہ بنانا دستوری آزادی کا حصہ ہے تاکہ عوام کو عدلیہ کے قیام پر بھروسہ ہوجائے۔ حکومت کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ عدلیہ کی آزادی کے فقدان کے باعث ہی حکومت کے کئی پراجکٹس سست روی کا شکار ہے۔ ججس کے تقررات اور تبادلوں کے عمل میں سیاسی مداخلت کو دور رکھنا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT