Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / گوگل ہیڈ کواٹرزمیں تنخواہ لینے والی 200ملازم بکریاں

گوگل ہیڈ کواٹرزمیں تنخواہ لینے والی 200ملازم بکریاں

سان فرانسسکو ۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عالمی سرچ انجن گوگل کے دنیا بھرمیں سینکڑوں ملازمین کام کررہے ہیں مگر گلوگل کے امریکہ میں قائم ہیڈ کواٹر میں 200 بکریاں بھی تنخواہ پر کام کرتی ہیں۔گوگل کی ملازم بکریوں کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہوگا مگر یہ بکریاں پچھلے کئی سال سے کام کرتی ہیں۔ گوگل نے ماٹینٹ بیو میں اپنے ہیڈ آفس کیلئے دو سو بکریوں کو بہ طور ملازم رکھا ہوا ہے جہاں یہ بکریاں صدر دفتر کے سبزہ زار میں اگنے والی گھاس چرتی ہیں۔ ان بکریوں کو باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ بکریوں کو ہفتے میں ایک بارہیڈ آفس کے لان میں گھاس چرانے کیلئے لایا جاتا ہے۔ اس طرح صحن میں گھاس کی کٹوائی کے ساتھ ساتھ بکریوں کا پیٹ بھی بھر جاتا ہے۔ گوگل نے اپنے آفیشل بلاگ پربھی بکریوں کوبطور ملازم رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل اپنے دفتر کے سبزہ زار میں اگنے والی گھاس کی کٹائی کیلئے مشین استعمال نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ دفتر کے عملے کو گھاس کٹائی کی مشین کے دھوئیں اور اس کے شور سے پیدا ہونے والی آلودگی سے محفوظ رکھنا ہے۔گوگل کی ملازم بکریوں کیلئے چرواہوں کو بھی ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ بکریوں کو دفاتر کے اندر جانے سے روکا جاسکے اور انہیں صرف دفتر کے سبزہ زار تک گھاس چرنے تک محدود رکھا جاسکے۔ مشین کے ذریعے گھاس کٹائی کے بجائے بکریوں کے استعمال سے دفتر کے ماحول کو خوش گوار رکھنا ہے، کیونکہ بکریوں کی آواز سے سکون ملتا ہے۔یہاں یہ امرقابل ذکر رہے کہ بکریوں کے ذریعے گھاس کٹائی کا کام پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ 2007 میںیاہو بھی بکریوں کو ملازمین کے طور پراستعمال کرچکا ہے۔اس کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاس سمیت دیگر اہم عمارتوں میں بکریوں کے ذریعے گھاس کاٹنے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT