Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / گٹکھا پر پابندی کے باوجود کھلے عام فروختگی

گٹکھا پر پابندی کے باوجود کھلے عام فروختگی

غیر قانونی تیاری عروج پر ، ممنوعہ شئے مضر صحت کے باوجود حکومت کی نظر سے اوجھل
حیدرآباد۔3اگسٹ (سیاست نیوز)  گٹکھا پر پابندی کے باوجود کھلے عام گٹکھے اور پان مسالے کی فروخت کی وجہ سے اس کے استعمال میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ گٹکھے کے بجائے کچے تمباکو کے استعمال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں گٹکھے کی تیاری پر پابندی کے باجود شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست و ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں غیر قانونی طور پر ان اشیاء کی تیاری عروج پر ہے اور خریداروں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ایک مرتبہ پھر گٹکھے کا چلن عام ہونے لگا ہے اور مشہور برانڈ کے گٹکھے جو پابندی عائد ہونے کے بعد 60-70روپئے میں فروخت کئے جا رہے تھے اب وہ آسانی 25-30روپئے میں دستیاب ہونے لگے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں گٹکھے کے غیر قانونی کام کا آغاز ہو چکا ہے اور دوبارہ گٹکھے کے عادی افراد کی تسکین کیلئے تیار گٹکھا بازار میں میسر آنے لگا ہے۔ گٹکھے پر عائد پابندی کے توڑ کے طور پر گٹکھا ساز کمپنیوں کی جانب سے چھالیہ اور کچے تمباکو کے علحدہ پیاکیٹ فروخت کئے جا رہے تھے لیکن اب تو باضابطہ گٹکھا اسمگل ہونے لگا ہے۔ دبئی و دیگر مقامات کے لئے تیار کیا جانے والا گٹکھا اب بھاری مقدار میں بازار میں دستیاب ہونے لگا ہے لیکن کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا یہ گٹکھا دبئی وغیرہ سے یہاں منتقل کیا جا رہا ہے یا پھر ”Not For Sale In India”کی تحریر کے ساتھ ملک میں ہی تیار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے نوجوانوں کو گٹکھے کی لعنت سے نجات دلوانے کیلئے گٹکھا سازی پر پابندی عائد کردی لیکن اس کے کوئی قابل رشک نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ آہستہ آہستہ خود گٹکھا فروخت کرنے والے بھی شائد یہ فراموش کر چکے ہیں کہ اس زہر پر پابندی ہے۔ ابتداء میں پان شاپس پر چوری سے گٹکھے کی فروخت عمل میں لائی جا رہی تھی لیکن اب برسر عام یہ گٹکھے فروخت کئے جا رہے ہیں لیکن انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ چند ماہ قبل ریاست کے محکمۂ آبکاری کی جانب سے بعض مقامات پر دھاوے کرتے ہوئے گٹکھا سازی کے ریاکٹ کو بے نقاب کیا گیا تھا تو کچھ یوم گٹکھے کی فروخت متاثر رہی لیکن اب ایک مرتبہ پھر گٹکھے کی فروخت بحال ہو چکی ہے ۔ محکمۂ آبکاری کی جانب سے گٹکھا سازی میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے باوجود بر سر عام گٹکھوں کی فروخت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گٹکھے کی فروخت معاشرتی نظام کا ایک حصہ بن چکی ہے اسی لئے اسے روکا جانا کسی ایک محکمہ کے اختیار کی بات نہیںہے بلکہ اس سلسلہ میں عوام کے درمیان میں پہنچ کر انہیں اس کے نقصانات سے واقف کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک عوام میں خود شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک پابندی کا مقصد حاصل ہونے کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔

TOPPOPULARRECENT