Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر تمام ریاستوں کا اتفاق رائے

گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر تمام ریاستوں کا اتفاق رائے

صرف تاملناڈو ذہنی تحفظات کا شکار ، مرکزی وزیر فیناس کا دعویٰ

کولکتہ ۔ 14 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ ادعا کیا ہے کہ ملک کی تمام ریاستیں ماسوا ٹاملناڈو کے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس آئیڈیا کی تائید میں ہیں ۔ جب کہ اس خصوص میں ٹاملناڈو نے بعض تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے آج بالراست محصول اصلاحات پر ریاستی وزراء کے فینانس کی بااختیار کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے بعد یہ انکشاف کیا اور بتایا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے لیے کوئی آخری مہلت مقرر نہیں کی گئی ہے جس کا مقصد مرکز اور ریاستی سطح پر محصولیات میں یکسانیت پیدا کرنا ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے ملک گیر سطح پر یکم اپریل 2016 سے سنگل ٹیکس نظام روشناس کروانے کا بیڑہ اٹھایا تھا لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن کانگریس کی مخالفت کے بعد جی ایس ٹی پر دستوری ترمیم بل منظور نہیں ہوسکا ۔ بااختیار کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے پہلے دن مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ گو کہ تمام ریاستوں نے جی ایس ٹی کی تائید میں حامی بھری ہے لیکن تاملناڈو نے بعض تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مخالفت کی ہے ۔ مذکورہ اجلاس میں 22 ریاستوں کے وزرائے فینانس بشمول مغربی بنگال کے امیت مترا اور وزرائے اعلی ارونا چل پردیش اور میگالیہ اور ڈپٹی چیف منسٹر دہلی اور سینئیر عہدیدار شریک ہیں ۔ اجلاس میں ریاستی وزراء کی قابل لحاظ تعداد کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ہر ایک ریاست نے GST پر نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔ اس موقع پر صدر نشین GSTN اور ریونیو سکریٹری ہسمکھ اڈھیا بھی موجود تھے ۔ مسٹر جیٹلی نے بتایا کہ لوک سبھا میں جی ایس ٹی بل منظور کرلیا گیا لیکن راجیہ سبھا میں معرض التواء ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے دستوری ترمیم منظور کروائی جائے گی ۔ جس کے بعد ریاستی اسمبلیوں میں توثیق ہوگی اور پارلیمنٹ میں CGST بل کی منظوری کے بعد ریاستوں میں SGST بلز کی منظوری کروائی جائے گی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر تاملناڈو جیہ للیتا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی آج دہلی میں ملاقات ہونے والی ہے ۔ جس میں چیف منسٹر ریاست ۔ مرکز تعلقات بشمول کاویری مینجمنٹ بورڈ اور کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی تشکیل پر تبادلہ خیال متوقع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT