Wednesday , August 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / گھریلو خادمہ کی بیٹی بن گئی چھتیس گڑھ کی اولین اولمپین

گھریلو خادمہ کی بیٹی بن گئی چھتیس گڑھ کی اولین اولمپین

رائے پور ، 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) رینوکا یادو بچپن میں راج نند گاؤں میں اپنی سائیکل پر گھر گھر جاکر دودھ ڈالا کرتی تھی جبکہ اُس کے والدین لوگوں کے گھروں میں گھریلو خدمت کا کام کرتے تھے۔ چھتیس گڑھ کے چھوٹے ٹاؤن کی یہ لڑکی اُن مشکل حالات سے آگے بڑھ کر طویل سفر طے کرچکی ہے۔ اب 22 سالہ رینوکا کو گزشتہ روز 16 رکنی ویمنس ہاکی اسکواڈ برائے ریو گیمز میں نامزد کیا گیا، جس کا اُس نے برسوں سے قبل خواب دیکھا تھا۔ منگل کو رینوکا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا: ’’یہ کوئی آسان سفر نہیں رہا۔ میرا تعلق متوسط طبقہ کی کمتر فیملی سے ہے۔ میں دودھ بیچا کرتی تھی اور میرے والدین نے گزربسر کی خاطر دوسروں کے گھروں میں گھریلو کام کاج جیسے جھاڑو دینا وغیرہ کئے ہیں۔‘‘ نیشنل ہاکی ٹیم میں کچھ عرصے سے مڈفیلڈر اور فُل بیاک کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے رینوکا نے خالص حوصلہ اور سخت محنت کے ذریعے مثال قائم کی ہے۔ اولمپک سلیکشن پر اپنی زبردست خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رینوکا نے کہا کہ ’’یہ میری زندگی کا سنہری موقع ہے۔ ہمیں 36 سال کے طویل وقفے بعد اولمپکس میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ مجھے چھتیس گڑھ کی اولین خاتون اولمپین بننے پر بھی خوشی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ’’میں بچپن سے ہاکی کھیلتی آئی ہوں۔ میرے پہلے مینٹور بوشن ساؤ نے مجھے اس کھیل کو اختیار کرنے میں حوصلہ افزائی کی۔ میرا سفر وہیں سے شروع ہوا اور آج میں ریو کیلئے منتخب انڈین ٹیم کا حصہ بنی ہوں۔‘‘ راج نند گاؤں میں بوشن ساؤ اسکولی سطح کے ہاکی کوچ ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’وہ (رینوکا) 7 ویں جماعت میں تھی جب اُس نے ہاکی کھیلنا شروع کیا۔ میں نے اسے پہلی ہاکی اِسٹک دی تھی۔ اس کی محنت کا صلہ ہے کہ آج وہ اس مقام تک پہنچی ہے۔ اسکولی دنوں سے ہی رینوکا نے محنت کی اور اسے ہمیشہ سیکھنے کی چاہ رہی ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT