Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / ’’گھر واپسی کا وقت آ گیا ہے‘‘ : اے آر رحمن کو وی ایچ پی کا مشورہ

’’گھر واپسی کا وقت آ گیا ہے‘‘ : اے آر رحمن کو وی ایچ پی کا مشورہ

نئی دہلی ۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد نے موسیقار اے آر رحمن پر زور دیا کہ دوبارہ ہندو دھرم قبول کرلیں۔ پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک فلم کی تیاری کے بعد ان (اے آر رحمن) کے خلاف فتویٰ کی اجرائی پر وی ایچ پی نے کہا کہ اب گھر واپسی کا وقت آ گیا ہے۔ وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ہندوؤں کی جانب سے نامور موسیقار کا دونوں ہاتھ بڑھا کر خیرمقدم کیا جائے گا۔ وی ایچ پی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے محض تجارتی مقاصد کے تحت اسلام قبول کیا تھا۔ جین نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اے آر رحمن کے خلاف فتویٰ انتہائی بدبختانہ ہے اور اس سے بڑھ کر بدبختی فتویٰ میں استعمال کردہ انتقام کی زبان ہے۔ انہوں نے کسی مذہب کی بنیاد پر موسیقی کی دھند نہیں دی تھی‘‘۔ وی ایچ پی لیڈر نے مزید کہا کہ ’’میں اے آر رحمن سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں واپس آجانا چاہئے۔ انہیں گھر واپسی کرنا چاہئے۔

ہندو سماج اپنے سپوت کا انتظار کررہا ہے۔ ہم نہ صرف اپنے دونوں بازو پھیلا کر ان کا استقبال کریں گے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے اس مسئلہ پر ان کے خلاف خواہ کتنے ہی فتوے جاری کئے جائیں انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا‘‘۔ واضح رہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرتے ہوئے انہیں ہندو بنانے کیلئے بعض ہندو گروپوں کا گھر واپسی پروگرام کافی متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی فلمی ہدایت کار ماجد ماجدی نے ایک فلم ’’محمد ؐ : پیغمبر خدا‘‘ کی تیاری میں ہدایت کار کا رول ادا کیا تھا۔ ممبئی کی رضا اکیڈیمی نے اس فلم پر اعتراض کرتے ہوئے آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمن اور ماجدی کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے اس فلم کو مخالف اسلام قرار دیا تھا جس پر اے آر رحمن نے کہا کہ انہوں نے نیک ارادوں کے مطابق موسیقی دی تھی اور کسی کے جذبات کو نقصان پہنچانے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔

TOPPOPULARRECENT