Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / گھیرو او رمارو بی جے پی پولیس پالیسی: کیا دہلی ایس ائی کا دعویٰ ہے کہ اگر کسی کے پاس ادھار کارڈ نہیں ملا تو وہ انہیں ماردیں گے؟

گھیرو او رمارو بی جے پی پولیس پالیسی: کیا دہلی ایس ائی کا دعویٰ ہے کہ اگر کسی کے پاس ادھار کارڈ نہیں ملا تو وہ انہیں ماردیں گے؟

نئی دہلی: ممتاز سماجی جہدکار اور انسانی حقوق کی علمبردار شبنم ہاشمی نے مبینہ طور پر کہاکہ پچھلی رات کو دہلی پولیس کے سب انسپکٹر سندیپ ملک نے انہیں دھمکیا ں دی ہیں ‘ اس کی وجہہ؟ شبنم نے مذکورہ ایس ائی کو اپنا ادھارکارڈ نمبر دینے سے انکار کیا۔ہاشمی جو دہلی نژاد این جی او پہچان کی ٹرسٹی ہیں ‘پولیس افیسر نے کسی اور جگہ انہیں فون کال کردیا‘ اس کال کے دوران جس کو ہاشمی نے ریکارڈ کیا ہے ‘ ایک مردکی آواز سنائی دیتی ہے جو شبنم کے مطابق ملک کی ہے جس میں وہ انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔

شبنم ہاشمی نے کیچ کو بتایا کہ’’ پہچان ایک تعلیمی مرکز ہے اور وہ جن کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ‘ ان لوگوں کے ساتھ جیت پور ایکسٹیشن میں کام کرتاہے۔ایک لڑکی جو اس مرکز کا حصہ ہے مبینہ اور اس کے شوہر حسین کو پچھلی رات پولیس نے دھمکی دی اور لاجپت نگر پولیس اسٹیشن طلب کیا۔

پہچان کی ڈائرکٹر سے مجھے فون پر اطلاع ملنے پر میں نے فیصلہ کیا پولیس افیسر سے بات کروں تاکہ معاملے کی تفصیلات کا مجھے پتہ چل سکے‘‘

ادھار کے لئے موت کی دھمکی؟

جب ہاشمی نے بات چیت کے پہلے حصہ کو ریکارڈ نہیں‘ انہو ں نے کسی بھی طرح بات کا چیت کا دوسرا حصہ ریکارڈ کیا۔ وہ شخص ریکارڈنگ میں کہہ رہا ہے کہ’’ ارے میری بات سن‘جس کا ادھار نمبر نہیں ہے‘ ہم اسے کہیں بھی ختم کرسکتے ہیں‘‘۔ اس شخص کا دعوی ہے کہ ابھیان چل رہا ہے اگر کوئی اپنا ادھار کارڈ نمبر نہیں بتائے گا تو کسی کوبھی مارسکتے ہیں۔ شبنم ہاشمی نے کہاکہ ’’ بڑا سوال یہ نہیں کہ مجھے دھمکی دی گئی تھی۔

مگر یہ حقیقت ہے کہ حکومت اپنی طاقت کا ڈر اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ’’ یہ صرف اس بات کا سوال نہیں ہے کہ کوئی ایک شخص پولیس کو فون کرتا ہے اور اس کو دھمکیاں دی جاتی ہے۔ کوئی سوال اٹھایاگیا تو فوری طور پر اس کو سرحد اور سکیورٹی فورسس کی طرف موڑ دیاجاتا ہے۔ لہذا غیر رسمی طور پر لوگوں کو کچھ بولنا چاہئے۔ اس شخص کی ضرور شناخت ہونا چاہئے جس کے نمبر کسی اشیش کے نام پر رجسٹرارڈ ہے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی ایس ائی اس نام کا نہیں ہے ‘ مگر بجائے اس کے ایک کانسٹبل اس نام کا ضرور ہے‘‘۔ انہو ں نے حکومت کے ردعمل کا بھی مطالبہ کیا۔اس معاملے کو اجاگر کرنے کے علاوہ ‘ ہاشمی نے ایک مکتوب کمشنر آف پولیس اور ہوم منسٹر کو بھی روانہ کیا۔ انہوں نے برہمی کے عالم میں کہاکہ’’ ایک شہری اس سے زیادہ اور کر بھی کیاسکتا ہے؟ میں نے سوال کھڑا کیا او ردوسروں کو بھی ایسا کرنے کو کہہ رہا ہوں۔ تاہم یہ حکمت اور اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے اس سے جواب مانگیں۔پچھلے مہینہ ہاشمی نے اقلیتو ں پر ہونے والے حملوں کے خلاف احتجاجاً اپنا قومی ایوارڈ واپس کردیاتھا۔

TOPPOPULARRECENT