Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / گینگسٹر نعیم سے تعلقات کا شاخسانہ، سیاسی قائدین اور پولیس ملازمین پر خطرہ کی گھنٹی

گینگسٹر نعیم سے تعلقات کا شاخسانہ، سیاسی قائدین اور پولیس ملازمین پر خطرہ کی گھنٹی

حیدرآباد ۔ 13 مئی (سیاست نیوز) گینگسٹر نعیم سے تعلقات رکھنے والے سیاسی قائدین اور پولیس ملازمین کے سر پر خطرے کی گھنٹی منڈلا رہی ہے۔ ٹی آر ایس کے دو عوامی منتخب نمائندے اور 20 پولیس ملازمین کی نقل و حرکت پر تحقیقاتی ٹیم کی نظر ہے۔ گینگسٹر نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد سیاسی قائدین اور پولیس ملازمین پر شکنجہ مضبوط ہورہا ہے۔ حکومت نے انکاؤنٹر کی سی بی آئی تحقیقات میں 5 پولیس عہدیداروں کو معطل کردینے کے بعد اس مسئلہ پر سیاسی ماحول دوبارہ گرم ہوگیا ہے۔ پولیس کے محکمہ جاتی تحقیقات پر انگلی اٹھ رہی ہے۔ نعیم سے تعلق رکھنے والے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے چھوٹے درجے کے ملازمین کو بلی کا بکرا بنانے کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ گینگسٹر نعیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں معطل ہونے والے پولیس ملازمین سے تحقیقاتی ٹیم نے ٹیلیفون کے سم حاصل کرلئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ مزید 20 پولیس ملازمین سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہیکہ اگر گینگسٹر نعیم سے تعلقات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پولیس ملازمین کو خدمات سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ انکاؤنٹر کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے نعیم ڈائری کا سہارا لیا ہے۔ گذشتہ ماہ چیف منسٹر کے سی آر نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد نعیم سے تعاون کرنے والے پولیس ملازمین اور سیاسی قائدین کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 5 پولیس ملازمین کو معطل کرنے کے علاوہ 20 پولیس ملازمین کو نوٹس بھی دے دی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں سیاسی قائدین سے پوچھ تاچھ کرنے کا قوی امکان ہے۔ تحقیقات میں 22 پولیس ملازمین کا احاطہ کیا گیا جس میں 16 پولیس ملازمین شک کے دائرہ میں شامل ہوئے ہیں۔ 8 پولیس ملازمین کے خلاف سنگین الزامات ہے، جن میں فوری اثر کے ساتھ 5 پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ واضح رہیکہ گینگسٹر نعیم سے تعلقات کے معاملے میں کئی سیاسی قائدین کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ حکمراں ٹی آر ایس کے ایک رکن اسمبلی اور ایک رکن قانون ساز کونسل کا بھی نام شامل رہنے کی اطلاعات ہیں جس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے ماضی میں ایم ایل سی سے پوچھ تاچھ کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT