Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / گینگسٹر نعیم سے تعلقات کی تردید ‘ سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

گینگسٹر نعیم سے تعلقات کی تردید ‘ سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

ٹی آر ایس رکن اسمبلی پی مدھو کو سابق ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کا جواب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : سابق ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے گینگسٹر نعیم سے تعلقات کی تردید کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کرنے والے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی پی مدھو پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی چیف منسٹر سے سفارش کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کرائے ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ڈی سریدھر بابو نے ان کی گینگسٹر نعیم سے تعلقات کی تردید کرتے ہوئے اسمبلی حلقہ منتھنی کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی پی مدھو پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انہیں خدشات ہیں تو چیف منسٹر کے سی آر سے نمائندگی کرتے ہوئے اس کی سی بی آئی تحقیقات کرائے وہ کسی بھی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ کانگریس کے قائد نے بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کے لیے حصول اراضیات میں کئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ۔ اس میں مقامی ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی بھی ملوث ہے ۔ تمام بے قاعدگیاں آشکار ہوچکی ہیں اور وہ متاثرین کو قانون حصول اراضیات 2013 کے تحت راحت فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور کانگریس پارٹی متاثرین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔ اپنی بے قاعدگیوں اور احتجاج سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مجھ پر جھوٹے بے بنیاد الزامات عائد کرہے ہیں ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اگر ثبوت ہے تو پیش کرنے کا مقامی رکن اسمبلی کو چیلنج کرتے ہیں ۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ وہ ان جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہے ۔ متاثرین کو انصاف ملنے تک اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔ اگر حکومت کو ہمت ہے تو اس کی سی بی آئی تحقیقات کرائے ۔ وہ بلیک میل کی سیاست سے ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہے ۔ سیاسی طور پر ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہونے والے مقامی ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے میرے کیرئیر کو داغدار بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اگر ان کے پاس نعیم سے میرے تعلقات کے ثبوت ہیں تو اس کی سی بی آئی تحقیقات کرائے ورنہ وہ ٹی آر ایس کے مقامی رکن اسمبلی پی مدھو کے خلاف عزت ہتک کا مقدمہ دائر کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT