Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / گینگسٹر نعیم کے ساتھ پولیس عہدیداروں اور سیاستدانوں کی حصہ داری

گینگسٹر نعیم کے ساتھ پولیس عہدیداروں اور سیاستدانوں کی حصہ داری

محمد علی شبیر کا اظہار تشویش ، سی بی آئی تحقیقات پر زور
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے گینگسٹر نعیم کے مجرمانہ نیٹ ورک میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں اور سیاستدانوں کے حصہ داری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ آج اسمبلی کے میڈیا کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ نعیم کی غیر قانونی سرگرمیاں ملک کے کئی ریاستوں تلنگانہ ، آندھرا پردیش ، اڑیسہ ، چھتیس گڑھ ، گوا وغیرہ تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس کے علاوہ پولیس مینول ( رہنمایانہ خطوط ) کے مطابق ایک چھوٹے رینک کا پولیس آفیسر محکمہ میں موجود اپنے سے بڑے رینک کے عہدیدار کے خلاف تحقیقات نہیں کرسکتا لہذا اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کرانے پر ہی 6 ریاستوں کی پولیس ، انکم ٹیکس کے علاوہ دوسرے محکمہ جات کی انہیں مکمل تائید حاصل ہوسکتی ہے اور تحقیقات میں پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے نعیم کی تحویل سے تقریبا 3 کروڑ روپئے نقد رقم 2 کیلو سونا ، AK47 وغیرہ کے علاوہ ڈائری دستیاب ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کیا ہے ۔ ڈائری میں پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اور سیاستدانوں کے نام پائے جانے کا میڈیا کے ذریعہ لیک جاری کیا جارہا ہے ۔ اگر حکومت اور پولیس تحقیقات میں سنجیدہ ہے تو ڈائری میں موجود سیاستدانوں اور پولیس کے اعلی عہدیداروں کا بھی سرکاری طور پر اعلان کریں ۔ 8 اگست کو گینگسٹر نعیم کا انکاونٹر کیا گیا ہے ۔ مگر اس کی موت آج بھی معمہ بنی ہوئی ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے بتایا کہ انہیں ایس آئی ٹی کی تحقیقات پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ ہی ایس آئی ٹی بین ریاستی معاملت کو حل کرسکتی ہے ۔ ایس آئی ٹی تلنگانہ حکومت کے کنٹرول میں ہوتی ہے ۔ نعیم سے جن کے تعلقات پر شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ان میں حکمران جماعت کے زیادہ قائدین شامل ہیں ۔ حکومت اپنی جماعت کے قائدین اور اپنے حامی پولیس عہدیداروں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس لیے سی بی آئی کے بجائے ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کرارہی ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر رام لنگا ریڈی کے لگائے گئے الزامات پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رام لنگا ریڈی پہلے اپنا محاسبہ کریں ۔کیوں کہ ماضی میں انکا تعلق ممنوعہ نکسلائٹس گروپ سے رہا ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ اتنے بڑے واقعہ میں صرف چھوٹے درمیانی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے بڑی مچھلیوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ سی بی آئی تحقیقات کرانے پر ہی حقائق منظر عام پر آئیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT