Friday , September 22 2017
Home / جرائم و حادثات / ہائی ٹیک انداز میں قحبہ گری کا انکشاف

ہائی ٹیک انداز میں قحبہ گری کا انکشاف

بین ریاستی پولیس کے دھاوے، اصل سرغنہ سنجے مفرور ، پرکشش ترغیبات سے دلالی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ہائی ٹیک سٹی کی شناخت حاصل کرنے والے شہر حیدرآباد میں فحاشی بھی ہائی ٹیک انداز سے ہونے لگی ہے ۔ تیزی سے ترقی کررہے اس شہر میں برائی بھی اسی انداز سے پھیلائی جارہی ہے ؟ انفارمیشن ٹکنالوجی میں قومی سطح پر اپنی منفرد پہچان رکھنے والے حیدرآباد میں بیرون ریاستوں سے لڑکیاں منتقل کی جارہی ہیں روزانہ 25 ہزار تا ایک لاکھ روپئے عیاشی کے لیے چارج کیے جارہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں پھیلائی جارہی اس برائی کا حیرت انگیز انکشاف پولیس کو اس وقت ہوا جب پولیس نے سنجے نامی سرغنہ کے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کردیا ۔ جتنی معلومات حاصل کی جارہی ہیں پولیس کو وہ اتنی ہی کم اور تشویش میں اضافہ کا موجب بنتی جارہی ہیں ۔ کولکتہ کا ساکن سنجے بین ریاستی قحبہ گری ریاکٹ کا اصل سرغنہ بتایا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ اسپیشل آپریشن ٹیم سائبر آباد نے بنگلور ، ممبئی کی پولیس سے تال میل کرتے ہوئے دونوں ریاستوں میں دھاوے کیے تھے اور مادھا پور کی ایک ہوٹل سے گرفتار میاں بیوی راجیش پروال اور آرتھی پروال سے سنجے کی شناخت ہوئی اور پولیس کو حاصل حیرت انگیز اطلاعات کے بعد اب پولیس نے سنجے کی گرفتاری کے لیے زور لگادیا ہے ۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ سنجے مادھا پور کارروائی کے بعد روپوش ہوگیا ۔ سنجے تقریبا ہائی ٹیک انداز میں جسم فروشی کا کاروبار چلاتا ہے جو ٹکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ عوامی رابطہ سوشیل میڈیا کا بھی بھر پور انداز میں استعمال کرتا ہے ۔ تقریبا 50 ایسے ویب سائٹ اس نے تیار کئے جن پر ’معیار‘ کی لڑکیوں کو پیش کرتا ہے ۔ خوبصورتی ، قد ، جسامت ، انداز بیان ، ماڈلنگ میں تجربہ رکھنے والی ، ایونٹ آرگنائزرس اس کا اہم نشانہ ہوتی تھیں ۔ اس نے جسم فروشی کے ویب سائٹ پر لڑکیوں کی تصاویر کو لوڈ کرنے کے بعد ان سے رابطہ کا تعلق خود طئے کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ کاروبار کو بڑھانے اور رئیس افراد تک پہونچنے کے لیے ٹیلی گرام فیس بک اور واٹس اپ کے ذریعہ خواہش مند افراد تک پہونچنے کی کوشش کرتا تھا ۔ زیادہ خوبصورت اور شارپ فیچر لڑکیوں کو جن کی زیادہ مانگ ہوتی تھی انہیں ایک ہفتہ کے 2 لاکھ روپئے تک سنجے فراہم کرتا تھا ۔ اور اپنے سب آرگنائزر کو حکم دیا تھا کہ وہ فی گراہک طلب اور ماڈل کے لحاظ سے 25 ہزار تا ایک لاکھ روپئے وصول کرے اور قیمت بھی معیار کے لحاظ سے بولی جاتی تھی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق سنجے تک خوبصورت لڑکیوں کو پہونچانے والے بھی سنجے سے کافی خوش ہوا کرتے تھے وہ ایسی لڑکیوں کو اس تک پہونچانے والے افراد کو بھاری رقم دیا کرتا تھا اور ماڈلنگ کے شوقین لڑکیوں کے علاوہ ایسی لڑکیاں جو اس کے جال میں پھنسنے سے انکار کردیا کرتی تھیں انہیں ہر شوق سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کرتا اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ فراہم کرنے کے علاوہ اندرون ملک و بیرون ملک سیر و تفریج کروانے اپنے دلالوں کو حکم دیا تھا ۔ اس طرح اکثر ماڈلز اور ایونٹ آرگنائزر لڑکیاں اس کے جال کا شکار بنی ہیں ۔ فلم صنعت میں کام نہ ملنا اور اب جب کہ ہر چھوٹے اشتہار کو بھی بڑے سے بڑا ایکٹر تیار کررہا ہے تو ایسے میں چھوٹے ماڈلز فلم صنعت میں کام نہ ملنے پر جسم فروشی کو اہمیت دے رہی ہیں ۔ ایسی تلخ حقیقت کا ان دنوں سامنا ہونے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں ۔ پولیس نے ابھی تک سنجے کے نٹ ورک کی موجودگی کا جن شہروں میں پتہ چلایا ہے ان میں حیدرآباد کے علاوہ وشاکھا پٹنم ، وجئے واڑہ ، دہلی ، ممبئی ، بنگلور اور اصل شہر کلکتہ شامل ہے ۔ اور اب پولیس نے بتایا کہ سنجے کی گرفتاری کے بعد سے ایسے مزید ویب سائٹ اور مزید ریاکٹوں کا انکشاف ہوگا ۔ بڑی بڑی اسٹار ہوٹلوں میں خواہش مند افراد کی جنسی ضروریات کا سامان فراہم کرنے والا سنجے اب اچانک روپوش ہوگیا ۔ پولیس جس کی شدت سے تلاش کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT