Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ہائی کورٹ میں لینکو انفراٹیک لمٹیڈ کی درخواست مسترد

ہائی کورٹ میں لینکو انفراٹیک لمٹیڈ کی درخواست مسترد

پاور فینانس کارپوریشن اور آئی ڈی بی آئی کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت
حیدرآباد۔8اگسٹ (سیاست نیوز) جسٹس اے راما لنگیشور راؤ ہائی کورٹ آف حیدرآباد نے لینکو انفراٹیک لمیٹیڈ کی جانب سے آئی ڈی بی آئی بینک اور پاؤر فینانس کارپوریشن کی جانب سے جائیدادوں کی قرقی کے فیصلہ کے متعلق دی گئی نوٹس پر حکم التواء کے لئے داخل کی جانے والی درخواست کو مسترد کردیا۔ لینکو انفراٹیک کی جانب سے جو ضمانت قرض کے حصول کیلئے دی گئی تھی اس کی عدم ادائیگی کے سبب آئی ڈی بی آئی نے نوٹس جاری کی تھی اور ریزرو بینک آف انڈیا نے آئی ڈی بی آئی بینک کو قرض کی وصولی کیلئے جائیداد کے ہراج کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجہ میں لینکو انفراٹیک نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے راحت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن حیدرآباد ہائی کورٹ نے لینکو انفراٹیک کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پاؤر فینانس کارپوریشن اور آئی ڈی بی آئی کو کاروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ لینکو انفراٹیک نے 88کروڑ کی بینک ضمانت دیتے ہوئے 88کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا جو کہ اب سود کے منجملہ 100 کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے جس کے سبب آئی ڈی بی آئی نے بینک کے پاس موجود جائیداد کے ہراج کے سلسلہ میں اقدامات شروع کئے تھے ۔ اسی طرح لینکو انفراٹیک نے پاؤر فینانس کارپوریشن کے ذریعہ 2000کروڑ کا قرض حاصل کیا تھا اور اس کی ادائیگی میں بھی کمپنی کی ناکامی کے سبب پاؤر فینانس کارپوریشن نے لینکو کے خلاف کاروائی اور رقومات کی پابجائی کا فیصلہ کیا ہے اور کارپوریشن میں جمع ضمانت کے طور پر جائیدادوں کے ہراج کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے نوٹس جاری کی تھیں۔پاؤر فینانس کارپوریشن لمیٹیڈ اور آئی ڈی بی آئی نے عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ لینکو انفراٹیک کی موجودہ معاشی حالت سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے کوئی راہیں نظر نہیں آرہی ہیں اسی لئے قرض دہندہ اداروں کی جانب سے ان رقومات کی وصولی کے لئے سخت گیر اقدامات ناگزیر تصور کئے جا رہے ہیں۔ جسٹس راما لنگیشور راؤ نے لینکو انفراٹیک کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کو ناقابل قبول تصور کرتے ہوئے جائیدادوں کے ہراج اور مستقبل میں کی جانے والی کاروائی پر روک لگانے سے انکار کردیا اور درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پاؤر فینانس کارپوریشن اور آئی ڈی بی آئی کی جانب سے کاروائی میں تیزی لائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT