Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کیلئے دونوں ریاستوں کا تعاون ضروری

ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کیلئے دونوں ریاستوں کا تعاون ضروری

چندرا بابو نائیڈو کی ہٹ دھرمی سے مسئلہ تعطل کا شکار ، بی نرسیا گوڑ کا بیان
حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ نے ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرسیا گوڑ نے کہا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں آندھرا پردیش حکومت کو تعاون کرنا چاہیئے کیونکہ مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑا نے واضح کردیا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کیلئے آندھرا پردیش حکومت کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی حکومت عمداً اس مسئلہ پر ٹال مٹول کا رویہ اختیار کررہی ہے جس سے تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی عدم تقسیم کے نتیجہ میں آندھرائی ججس تلنگانہ میں خدمات کیلئے آپشن کے ذریعہ برقرار رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ عدم تقسیم کے نتیجہ میں تلنگانہ کے تمام وکلاء نے احتجاج کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور گذشتہ کئی دن سے عدالتوں میں کام کاج ٹھپ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق قانون میں واضح طور پر کہا گیا کہ تلنگانہ کیلئے علحدہ ہائی کورٹ تشکیل دیا جائے گا۔ لیکن آج تک یہ عمل مکمل نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ کے قیام کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن یہ ریاست علحدہ ہائی کورٹ سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جہاں بھی نئی ریاستیں قائم کی گئیں وہاں علحدہ ہائی کورٹ بھی قائم ہوئے ہیں۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کے پراجکٹس اور دیگر اُمور میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ کیلئے مرکز سے شکایت کی گئی۔ رکن پارلیمنٹ کے مطابق وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کرشنا اور گوداوری کے پانی کے استعمال کے تنازعہ کی یکسوئی کیلئے آندھرا پردیش حکومت سے مشاورت کی پیشکش کی۔ ہریش راؤ نے آندھرا پردیش کے وزیر آبپاشی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے پانی کے مسئلہ پر باہمی مشاورت کے ذریعہ تنازعہ کی یکسوئی کا پیشکش کیا لیکن آندھرا پردیش کا ہٹ دھرمی کا رویہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر بات چیت کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ امراوتی آنے کیلئے بھی تیار ہیں یا پھر حیدرآباد میں اجلاس منعقد کیا جائے۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کی ایماء پر مرکزی حکومت بھی کئی معاملات میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے علاوہ ملازمین کی تقسیم میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔ تلنگانہ کو ملازمین کی کمی کے سبب نظم و نسق میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کی کمی کے سبب بھی تلنگانہ حکومت مختلف مسائل کا سامنا کررہی ہے۔ انہوں نے مرکز سے مانگ کی کہ وہ آندھرا پردیش کی ایماء پر مخالف تلنگانہ رویہ سے باز آئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT