Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کیلئے مرکز پر کے سی آر کا دباؤ

ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کیلئے مرکز پر کے سی آر کا دباؤ

Chief Minister Sri K.Chandrashekhar Rao called on the Union Home Minister Sri Rajnath Singh in New Delhi on 28-10-2015 on wedesday.Pic:Style photo service.

صدر جمہوریہ پرنب مکرجی اوروزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات، آئی اے ایس عہدیداروں کی تقسیم پر بھی زور
نئی دہلی۔/28اکٹوبر، ( پی ٹی آئی) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور ریاست سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی عاجلانہ تقسیم کیلئے مرکز پر زور دیا۔ توقع ہے کہ مرکز کی جانب سے ہائی کورٹ کی تقسیم پر بہت جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کا فیصلہ کرنے سے قبل وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اس سلسلہ میں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے تبادلہ خیال کریں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو دارالحکومت دہلی میں تین روزہ قیام کررہے ہیں، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے آج ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ حیدرآباد میں موجود ہائی کورٹ کی فوری تقسیم کیلئے قدم اٹھائیں۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ جتیندر ریڈی، بی ونود کمار اور ڈی جی پی انوراگ شرما بھی راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے دوران موجود تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر داخلہ سے تلنگانہ ریاست میں ہائی کورٹ کی ضروری تقسیم سے متعلق اپیل کی ہے۔ ہم نے آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن ایکٹ کے مطابق تلنگانہ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آئی اے ایس عہدیداروں کی تخصیص کا عمل بھی فوری پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ دو ریاستوں کے درمیان عملے کی تقسیم سے متعلق نویں اور دسویں شیڈول پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست تلنگانہ کو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت سڑکوں کی مرمت کیلئے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست کیلئے علحدہ ہائی کورٹ کا مرکز سے پہلے ہی مطالبہ کرتے ہوئے اپنی مرضی ظاہر کردی تھی اگر حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع ہائی کورٹ کو آندھرا پردیش کے حوالے کیا جائے تو تلنگانہ کیلئے علحدہ ہائی کورٹ کے قیام کی منظوری دی جانی چاہیئے۔ واضح رہے کہ مرکز نے آندھرا پردیش کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنے موقف کو واضح کردے کہ آیا وہ اپنے نئے دارالحکومت میں علحدہ ہائی کورٹ قائم کرنا چاہتی ہے یا حیدرآباد ہائی کورٹ کو ہی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

تاہم چیف منسٹر چندرا باو نائیڈو نے اس سلسلہ میں ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کا فیصلہ ہونے تک موجودہ ہائی کورٹ میں دونوں ریاستوں کیلئے کام کاج ہوگا۔چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے صدر جمہوریہ ہند مسٹر پرنب مکرجی سے بھی ملاقات کی اور ریاست کو درپیش مختلف مسائل کی یکسوئی کیلئے تفصیلی بات چیت کی۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر نے صدر جمہوریہ ہند مسٹر پرنب مکرجی کو آئندہ ماہ 23تا 27 نومبر ان کے حلقہ اسمبلی میں منعقد کئے جانے والے خصوصی یگنہ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی، جس پر دونوں قائدین نے اپنے مثبت رد عمل کا اظہار کیا۔ باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راج ناتھ سنگھ سے چیف منسٹر نے ریاست آندھرا پردیش کی تشکیل جدید قوانین پر عمل آوری کرنے کے اقدامات کرنے و دیگر مسائل پر بات چیت کی۔ علاوہ ازیں دستور ہند کے شیڈول 9اور 10 کے تحت اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں مسٹر ونود رکن پارلیمان نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کرنے والوں میں ان کے علاوہ جتیندر ریڈی رکن پارلیمان، ڈائرکٹر جنرل پولیس ریاست تلنگانہ مسٹر انوراگ شرما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ سے ریاست  کیلئے مرکزی سرویسس کے عہدیداروں کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ کی تقسیم کیلئے عاجلانہ اقدامات کی اپیل کی۔ جس پر مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ نے اپنے مثبت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا تیقن دیا کہ ہائی کورٹ آندھرا پردیش کی جلد سے جلد تقسیم عمل میں لائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT