Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ہاردک پٹیل کے خلاف غداری کا مقدمہ ‘ عدالت کا فیصلہ محفوظ

ہاردک پٹیل کے خلاف غداری کا مقدمہ ‘ عدالت کا فیصلہ محفوظ

فریقین کے دلائل کی سماعت مکمل ۔ عوام کو تشدد پر اکسانے کوٹہ لیڈر پر استغاثہ کا الزام

احمد آباد 2 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات ہائیکورٹ نے آج ہاردک پٹیل اور دوسرے پانچ افراد کی جانب سے ان کے خلاف غداری اور حکومت کے خلاف جنگ کے الزامات عائد کرنے کے مقدمہ کو چیلنج کرنے والی درخواست پر دلائل کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔ کوٹہ تحفظات لیڈر ہاردک پٹیل اور دوسرے پانچ افراد کے خلاف احمد آباد کرائم برانچ نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا ۔ جسٹس جے بی پردی والا کی عدالت میں مباحث کے دوران پبلک پراسکیوٹر متیش امین نے کرائم برانچ کی جانب سے مقدمہ کے اندراج کی مدافعت کی ۔ یہ مقدمہ ہاردک پٹیل کے علاوہ کیتن پٹیل ‘ چراغ پٹیل ‘ دنیش پٹیل ‘ الپیش کتھریہ اور امریش پٹیل کے خلاف درج کیا گیا ہے ۔ متیش امین نے کہا کہ ان تمام کے خلاف جو ایف آئی آر درج کیا گیا ہے وہ کرائم برانچ کی جانب سے ایک فون کال کے اقتباسات ریکارڈ کرنے پر مبنی ہے ۔ بحیثیت مجموعی کرائم برانچ نے اس طرح کے زائد از 200 کالس ریکارڈ کئے گئے جو ان پٹیل قائدین نے ماہ جولائی سے ستمبر کے درمیان کئے ہیں۔ امین نے الزام عائد کیا کہ ان کالس  میں جو بات چیت کی گئی ہے وہ انتہائی اشتعال انگیز تھی ۔ ان میں ملزمین نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ پولیس چوکیوں کو نذر آتش کریں ‘ ریلوے پٹریاں اکھاڑ دیں اور پولیس اہلکاروں کا قتل کردیں۔ پراسکیوٹر نے ادعا کیا کہ یہ بات چیت ریاستی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے مقصد سے کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت کے علاوہ پولیس کا قیاس ہے کہ تقریبا 35 لاکھ پیامات بھی فونس کے ذریعہ دئے گئے جن میں پٹیل برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ کہا گیا ہے کہ یہ پیامات 25 اگسٹ کو ہاردک پٹیل کی گرفتاری کے فوری بعد روانہ کئے گئے تھے ۔ متیش امین نے مزید کہا کہ اس طرح کے مواصلاتی رابطے کے بعد ریاست بھر میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجہ میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا ۔ احمد آباد کرائم برانچ ہاردک اور دوسروں کے خلاف 21 اکٹوبر کو ایف آئی آر درج کیا تھا اور ان پر حکومت کے خلاف جنگ کرنے اور غداری کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ہاردک کے وکیل بی ایم منگو کیا نے استغاثہ کے دلائل کی مخالفت کی اور کہا کہ عوام کو حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ جمہوریت میں دیا گیا بنیادی حق ہے ۔

TOPPOPULARRECENT