Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہارلی ڈیوڈسن گاڑی کا سارق غیر مسلم ‘ اصلی نام ٹی کرن

ہارلی ڈیوڈسن گاڑی کا سارق غیر مسلم ‘ اصلی نام ٹی کرن

سوشیل میڈیا پر سارق کی ہمدردی میں مہم ۔ اعلی تعلیمی قابلیت اور خاندانی حیثیت کا تذکرہ
حیدرآباد 5 ستمبر ( سیاست نیوز ) جرائم پر تشدد کارروائی یا پھر کسی بھی غیر سماجی حرکت کے تحقیق سے پہلے مسلمانوں پر شک کرنا عادت بن گئی ہے ۔ تاہم اب جرائم کی انجام دہی کیلئے بھی مسلم نام کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ ایک ایسا ہی واقعہ شہر میں سنسنی کا باعث بنا رہا ۔ سارق نے مسلم نام کا استعمال کیا اور اس کے حقیقی نام کا اس وقت تک انکشاف نہ ہوسکا جب تک اس کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ بنجارہ ہلز میں واقعہ ہارلی ڈیویڈسن شورم سے موٹر بائیک کا سرقہ کرلیا گیا ۔ سارق نے ٹرائیل رن کے بہانے موٹر سیکل کے ساتھ فرار اختیار کرلی ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹ ویب سائٹ اور واٹس اپ جیسے ایپس پر موٹر سیکل سے زیادہ سارق کے نام کا شور مچا ہوا تھا ۔ اس وقت تک نامعلوم سارق کی کوئی شناخت نہیں تھی ۔ کچھ دیر بعد طاہر نام کا بول بالا شروع ہوگیا کہ طاہر نامی کسی شخص نے ہارلی ڈیویڈسن جیسی موٹر سیکل کا سرقہ کرلیا ۔ تاہم اس کی جانب سے دئیے گئے پتہ پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ موٹر سیکل کے ساتھ جس شخص کو ممبئی سے جمعہ کے دن گرفتار کیا گیا اس کا نام ٹی کرن ہے ۔ جو آئی آئی ٹی مدراس سے فارغ اور او این جی سی کا ملازم بتایا گیا ہے تاہم اب کرن کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد بجائے اسکے جرم کی تشہیر کرنے کے اس کی تعلیمی قابلیت اور خاندانی حیثیت کو پیش کرتے ہوئے اس سے ہمدردی کا نہ خود اظہار کیا جارہا ہے بلکہ عوامی ہمدردی حاصل ہونے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ میڈیا اور سوشیل میڈیا کے متعصب رویہ میں پولیس کا رول کافی ڈپلومیٹک سمجھا جارہا ہے ۔ پولیس قانون کے لحاظ سے چاہے کوئی کیوں نہ ہوں اسے مجرم تصور کرتی ہے اور قانونی گنجائش کے تحت کام کرتی ہے ۔ تاہم پولیس ایک مجرم کے خلاف جاری ہمدردی اور تشہیر کو روک نہیں رہی شہر میں گذشتہ دنوں سے جاری اس طرح کے ماحول سے عام شہریوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ آیا اگر کرن واقعی جیسا کہ اس نے اپنا نام طاہر پیش کیا طاہر ہوتا تو میڈیا اور پولیس کا رویہ کچھ اور ہوتا ؟ ۔

TOPPOPULARRECENT