Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / ہاشمہ رفسنجانی کی امام خمینی کے مقبرہ کے دامن میں تدفین

ہاشمہ رفسنجانی کی امام خمینی کے مقبرہ کے دامن میں تدفین

لاکھوں سوگواروں نے اعتدال پسند رہنما کے جسد خاکی کو سپرد لحد کیا، سخت گیر قائدین کی شرکت
تہران ۔ 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے جسد خاکی کو لاکھوں سوگوراوں نے تہران میں آج بہ دیدہ نم سپرد لحد کیا۔ ان کے انتقال سے اس ملک کے اعتدال پسندوں کی اعلیٰ اقتدار تک رسائی کی راہ میں ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ جنوبی تہران کے مقبرہ میں ان کی آخری آرام گاہ تک سوگواروں کا بے پناہ ہجوم تھا انہیں 1979 کے رہبر اسلامی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مقبرہ کے دامن میں دفن کیا گیا۔ رفسنجانی جو 1989 تا 1997 ایران کے صدر رہے۔ ایران کے اعتدال پسند اور اصلاح پسند کیمپوں میں پدرانہ حیثیت کے حامل تھے۔ ان کا انتقال صدر حسن روحانی کیلئے ایک بڑا دھکا ہے جو ان کی تائید سے ہی 2013ء کے انتخابات میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ روحانی جنہوں نے مغربی ممالک سے صلح و مفاہمت کی راہ ہموار کی تھی، جو بالآخر 2015ء کے تاریخی نیوکلیئر سمجھوتہ کے ساتھ تکمیل کو پہنچی اب انہیں مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں سخت مقابلہ درپیش رہے گا۔ ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اختلافات کے باوجود تہران یونیورسٹی پہنچ کر رفسنجانی کی خدمات کو پراثر خراج عقیدت ادا کیا۔ 2009ء میں سخت گیر لیڈر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے بعد وہ حکومت کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز داخلی حلقے سے باہر ہوگئے تھے جب انہوں نے بوگس رائے کا دعویٰ کرنے والے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی مذمت کی تھی۔ رفسنجانی کے جلوس جنازہ میں حسن روحانی کے علاوہ ان کے سخت گیر قدامت پسند حریف اور پارلیمانی اسپیکر علی لاری جانی اور ان کے بھائی و سربراہ عدلیہ آیت اللہ صادق لاری جانی اور دوسروں نے بھی شرکت کی۔ اصلاح پسند سابق صدر محمد خاتمی جو ہاشمی رفسنجانی کے قریبی دوست بھی تھے، سرکاری وفد میں شامل نہیں تھے۔ رفسنجانی کے انتقال پر ایران اور بیرونی ممالک سے تعزیتی پیامات موصول ہوئے حتیٰ کہ وہائیٹ ہاؤز نے بھی ایک پیام جاری کیا، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی کیونکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT