Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ہالینڈ میں اردغان کے حامیوں کا مظاہرہ منتشر

ہالینڈ میں اردغان کے حامیوں کا مظاہرہ منتشر

ترک وزیر فاطمہ بتول سایان کایا کو جرمنی منتقل کردیا گیا ‘ وزیر اعظم ہالینڈ کی تصدیق
روٹرڈیم ۔ 12مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں پولیس نے واٹر کینن اور گھوڑوں کی مدد سے ترک قونصل خانے کے باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے جبکہ ایک ترک وزیر کو شہر سے باہر نکال دیا گیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازعے میں اضافے کے بعد قونصل خانے کے باہر ایک ہزار سے زائد ترک افراد جمع ہوئے تھے۔ یہ کارروائی ایک ترک وزیر کو قونصل خانے میں داخل نہ ہونے دینے کے بعد عمل میں آئی، جنھیں بعدازاں پولیس کی نگرانی میں جرمنی کی سرحد پر پہنچایا گیا ہے۔ڈچ وزیراعظم مارک رتے نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ ترک وزیر فاطمہ بتول سایان کایا کو پولیس نے جرمن سرحد پر پہنچا دیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف منظم انداز میں گھوڑوں پر سوار ہوکر کارروائی کی جبکہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو گھیر لیا تھا اور ان پر بوتلیں پھینک رہے تھے۔ترکی میں خاندان اور سماجی منصوبوں کی وزیر فاطمہ بتول سایان کایا سڑک کے راستے روٹرڈیم پہنچیں تھیں تاکہ وہ ہالینڈ میں رہنے والے ترکیوں کے ووٹ حاصل کر سکیں۔لیکن جب فاطمہ بتول وہاں پہنچیں تو ہالینڈ کے حکام نے انھیں قونصل خانے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد ٹویٹ کا ایک دور شروع ہو گیاجس میں غم و غصے کا اظہار تھا۔روٹرڈیم کے میئر نے صبح بتایا کہ اس کے بعد فاطمہ بتول کایا ہالینڈ سے چلی گئی ہیں۔

آئندہ ماہ 16 اپریل کو ترکی میں صدر اردوغان کے اختیارات میں اضافہ کے لیے ایک ریفرینڈم کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ترکی کو پارلیمانی طرز حکومت کے بجائے امریکہ کی طرح صدارتی طرز حکومت میں تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اگر یہ استصواب عامہ کامیاب رہتا ہے تو صدر کو مزید اختیارات حاصل ہو جائیں گے جس کے تحت وہ وزیر نامزد کر سکیں گے، بجٹ تیار کر سکیں گے، سینیئر ججز کی تقرری کر سکیں گے اور بعض قوانین وضع کر سکیں گے۔اس کے تحت صدر ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں اور پارلیمان کو برخاست کر سکتے ہیں۔ استصواب عامہ کو کامیاب بنانے کے لیے انھیں اندرون اور بیرون ملک رہنے والے دونوں قسم کے ترکیوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ 55 لاکھ ترکی بیرون ملک رہتے ہیں جس میں سے 14 لاکھ اہل ووٹرز تو صرف جرمنی میں رہتے ہیں اور ان سے حمایت حاصل کرنا انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اس لیے جرمنی آسٹریا اور ہالینڈ سمیت ان ممالک میں مختلف قسم کی جلسوں و جلوسوںکا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں ترکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔بہر حال صیانتی وجوہات کی بنا پر بہت سے ممالک میں ریلیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ سیبسٹیئن کرز نے کہا کہ صدر اردوغان کو وہاں جلسوں و جلوسوںکی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے اختلاف بڑھے گا اور ہم آہنگی متاثر ہوگی ۔بہت سے یورپی ممالک گذشتہ سال ناکام بغاوت کے بعد ترکی کے رویہ سے بھی بیزارہیں جس میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا گیاہے اور لاکھوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT