Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ہاکی چمپینس ٹروفی میں ہندوستان کو سلور میڈل

ہاکی چمپینس ٹروفی میں ہندوستان کو سلور میڈل

عالمی چمپین آسٹریلیا کے خلاف لندن میں فائنل کے دوران شوٹ آؤٹ پر تنازعہ ، ہندوستان کا احتجاج

لندن۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی ہاکی ٹیم نے چمپینس ٹروفی میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلور میڈل حاصل کرلیا۔ 36 ویں ہیرو چمپینس ٹروفی کیلئے 60 منٹ کے فائنل میں کوئی بھی ٹیم گول نہیں بناسکی۔ پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعہ میچ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ اس دوران یہ نتیجہ متنازعہ ہوگیا جس میں عالمی چمپینس آسٹریلیا نے پرعزم و بلند حوصلہ ہندوستانی ٹیم کو ایک کے مقابلے تین گول سے شکست دی۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم کے صرف ہرمن پریت سنگھ ہی شوٹ آؤٹ پر ایک گول بناسکے جبکہ ایس کے اتھپا، ایس وی سنیل اور سریندر کمار اپنے مقررہ اہداف سے بہت آگے ہٹ کر شاٹس لگائے اور انہیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ شوٹ آؤٹ کیلئے ایک ٹیم کو چار شاٹس کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی اور ہندوستان ٹیم صرف ایک کامیاب شاٹ لگاپائی جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم تین گول بناسکی اور یہ مقابلہ 3-1 پر ختم ہوا۔

آران زالیوسکی، ڈینیئل بیلے اور شائمن آرچرڈ نے آسٹریلیا کیلئے گول بنایا لیکن ٹرینٹ ملٹن کی کوشش کو گول کیپر پی آر سری جیش نے ناکام بنادیا۔ حالیہ عرصہ کے دوران ہندوستانی ہاکی ٹیم کی یہ سب سے اہم کامیابی ہے۔ 1982ء میں اس ٹیم کو برونز میڈل حاصل ہوا تھا اور اس مرتبہ وہ سلور میڈل حاصل کی ہے۔ بیلے کے شوٹ آؤٹ پر زبردست ڈرامہ دیکھا گیا۔ بیلے جب شوٹ آؤٹ پر گول بنانے میں ناکام ہوگئے۔ انہیں دوبارہ شاٹ لگانے کی اجازت دی گئی۔ ویڈیو امپائر کے اس فیصلہ پر ہندوستانی ہاکی ٹیم کے کوچ ریولینٹ اولٹمینس عملاً برہم ہوگئے۔

میچ کے اختتام کے بعد ہندوستان نے بیلے کو دوسری کامیاب کوشش کا موقع دیئے جانے اور میچ کے نتیجہ کے اعلان میں تاخیر پر سخت احتجاج کیا۔ بعدازاں ہندوستان کی اپیل پر فیصلہ کیلئے عہدیدار جمع ہوگئے لیکن اس وقت تک گراؤنڈ سے ٹروفیز ہٹالی گئی تھیں اور شائقین بھی اسٹیڈیم سے واپس ہوچکے تھے۔ اس دوران جیوری ہندوستانی ٹیم کی اپیل پر ایک گھنٹہ تک تبادلہ خیال کے بعد اعلان کیا کہ ہندوستانی گول کیپر پی آر سری جیش نے ساتویں سیکنڈ میں غیرارادی طور پر رکاوٹ پیدا کی تھی چنانچہ دوبارہ شاٹ کھیلنے کی اجازت منصفانہ و حق بجانب تھی۔ ٹروفیز کی پیشکشی کی تقریب کافی دیر بعد انڈور اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ ماہر و تجربہ کار آسٹریلیائی ٹیم اپنی 14 ویں چمپینس ٹروفی پر توجہ مرکوز کی ہوئی تھی تاہم اس کو فائنل میں پہلی مرتبہ رسائی حاصل کرنے والی ہندوستانی ٹیم سے سخت مقابلہ درپیش رہا۔ آسٹریلیا نے دوسرے کوارٹر میں ایک پینالٹی اسٹروک سے ملنے والا بہترین موقع گنوادیا اور ہندوستانی ٹیم بھی آسٹریلیا کے خلاف اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھانے میں ناکام ہوگئی۔ ہندوستانی کھلاڑی نے طاقتور حریفوں کو گول بنانے کا کوئی موقع نہیں دیا اگرچہ دونوں ٹیموں کے موقف میں کافی فرق تھا لیکن ہندوستانی ٹیم نے عالمی چمپینس کو مساویانہ طاقتور ٹیم کی حیثیت سے ایک سخت مقابلہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT