Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ہتک عزت مقدمہ میں کروناندھی کی عدالت میں حاضری

ہتک عزت مقدمہ میں کروناندھی کی عدالت میں حاضری

اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کیڈر میں جوش ۔ مجھے انصاف ملے گا : سابق چیف منسٹر کا بیان

چینائی 18 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنی نوعیت کے منفرد ڈرامائی انداز میں ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی آج وہیل چئیر پر شہر کی ایک عدالت میں پیش ہوئے ۔ وہ اپنی کٹر حریف اور چیف منسٹر ٹاملناڈو جئے للیتا کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کے ایک مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے ۔ پرنسپل سشن کورٹ جج این آدی ناتھن نے عدالت میں 92 سالہ کروناندھی کی حاضری کو ریکارڈ کرنے بمشکل ایک منٹ کا وقت لیا ۔ کروناندھی سابق چیف منسٹر ہیں اور وہ اپنے وکلا کے ساتھ عدالت میں آئے تھے ۔ عدالت نے مقدمہ میں آئندہ سماعت 10 مارچ کو مقرر کردی ہے ۔ کروناندھی کے فرزند و پارٹی خازن ایم کے اسٹالن ‘ کروناندھی کی دختر و رکن راجیہ سبھا کنی موڑھی کے علاوہ پارٹی کے سینئر قائدین ٹی آر بالو ‘ دیاندھی مارن ‘ دورائی مروگن اور ارکاٹ ویراسامی بھی اس موقع موجود تھے ۔ عدالت کے احاطہ میں پارٹی کے تقریبا 1,500 کارکن اور ڈی یم کے وکلا بھی موجود تھے ۔ پولیس کو ہجوم پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ ڈی ایم کے سربراہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل ہی عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور ان کی اس حاضری کو انتخابات سے قبل پارٹی کیڈر میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے ۔ پرنسپل سشن جج این آدی ناتھن نے گذشتہ مہینے کروناندھی کو ہدایت دی تھی کہ وہ 18 جنوری کو ہتک عزت کے مقدمہ میں عدالت میں حاضر ہوں۔ یہ مقدمہ جئے للیتا نے ڈی ایم کے کے ترجمان اخبار موراسولی میں انا ڈی ایم کے حکومت کی چار سالہ کارکردگی سے متعلق ایک مضمون کی اشاعت پر دائر کیا تھا ۔ کروناندھی نے کہا کہ انہیں انصاف ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نیا کچھ کہنا نہیں ہے ۔ انصاف حاصل ہوگا اور عوام کو انصاف کے ساتھ متحد ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کے تعلق سے کچھ بھی تبصرہ کیا جائے ہتک عزت کے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے دائر کئے جانے والے ہتک عزت کے مقدمات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلہ پر تبصرہ کیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ڈی ایم کے دوسری سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتے ہوئے ان مقدمات کا سامنا کریگی انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کسی کو بھی ایسا کرنے کیلئے مجبور نہیں کریگی ۔ یہ فیصلہ کرنا دوسری جماعتوں کا کام ہے کہ آیا وہ ایسے فیصلے کرتے ہیں یا نہیں۔ دوسری جماعتیں جو فیصلے کرینگی وہ ان کی پابندی کرینگے ۔ انہوں نے ریاست کے عوام کو بھی پیام دیا کہ وہ ریاست کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT