Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / ہرایک صحیح الفکر ہندوستانی عدم رواداری کیخلاف آواز بلند کرے

ہرایک صحیح الفکر ہندوستانی عدم رواداری کیخلاف آواز بلند کرے

عوام پر دقیانوسی نظریات مسلط کرنے کی کوشش۔ محترمہ نائین تارا سہیگل کا الزام
علیگڑھ۔/10ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) نامور ادیبہ نائینتارا سہیگل جنہوں نے ملک میں عدم رواداری کے ماحول کے خلاف دیگر مصنفین کے ساتھ اپنا ایوارڈ واپس کردیا ہے کہا کہ ہر ایک صحیح الفکر ہندوستانی کا فرض ہے کہ سیاسی تشدد اور عدم تحمل کے خلاف آواز بلند کرے۔ بصورت دیگر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں آج چھٹواںکے پی سنگھ یادگار لکچر دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم جواہر لالع نہرو کی بھانجی سہیگل نے کہا کہ اگر آج تم نہیں بولو گے تو کل تمہیں کف افسوس ملنا پڑیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ادیبوں، فنکاروں، سائنسدانوں اور مؤرخین کے جاریہ احتجاج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب ہندوستان کے سامنے دو ہی راستے رہ گئے ہیں ایک وہ سائنٹفک مملکت کی حیثیت سے برقرار رہے گا یا پھر تاریک دور میں واپس چلا جائیگا۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ 1975ء میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی نافذ کی تھی اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرنے والوں میں وہ سب سے آگے تھیں۔ محترمہ نائین تارا سہیگل نے بتایا کہ مصنفین ، فنکاروں، سائنسدانوں اور مؤرخین کی اکثریت جنہوں نے اپنے ایوارڈس واپس کردیئے ہیں لیکن ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کی جبکہ درحقیقت یہ لوگ مختلف علاقائی زبانیں بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کون کس سے ملا ہوا ہے، بلکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور وہ کدھر جارہا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں ملک کو سب سے بڑا خطرہ این ڈی اے حکومت کی جانب سے مروجہ عصری تعلیمی نظام کو منصوبہ بند طریقہ سے تباہ کردینے اور اس کی جگہ جھوٹے سچے قصوں پر مبنی تاریخ اور غیر سائینسی نظریات مسلط کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان آج تعلیمی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے جو کہ خطرہ کی گھنٹی کے مترادف ہے اور یہ موجودہ حکومت کی بنیادی پالیسی ہے۔ممتاز ادیبہ نے خبردار یا کہ اگر نئی تعلیمی پالیسی کو جاری رکھا گیا تو مستقبل کی نسلیں دقیانوسی اور لاعلمی کا شکار ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی ماہرین تعلیم جو کہ غیر تعلیم یافتہ افراد کے مسلط کئے جانے کا خطرہ محسوس کررہے ہیں مستقبل کی نسلوں کی حفاظت کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہوجائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسے افراد کو داخل کیا جارہا ہے جن میں تعلیمی صلاحیت اور مہارت کا فقدان پایا جاتا ہے۔
26/11 کیس کا گواہ منحرف قصاب کے زندہ رہنے کا دعویٰ
لاہور۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی حملہ کیس میں مقدمہ کا سامنا کرنے والے ایک اہم گواہ آج منحرف ہوگیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اجمل قصاب ہنوز زندہ ہے۔ مقدمہ کی کارروائی کرنے والوں کو اس گواہ کے منحرف ہونے پر شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے قصاب کو بعدازاں ہندوستان میں پھانسی دی گئی تھی۔ عدالت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فریدکوٹ میں پرائمری اسکول کے ہیڈماسٹر مدثر لکھوی نے عدالت کو بتایا کہ میں نے قصاب کو پڑھایا ہے اور وہ زندہ ہے۔ اجمل قصاب نے اس اسکول میں تین سال تک تعلیم حاصل کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT