Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / ہریانہ میں بدامنی ، جاٹ طبقہ کا تشدد جاری ، 8 ہلاک

ہریانہ میں بدامنی ، جاٹ طبقہ کا تشدد جاری ، 8 ہلاک

تحفظات دینے کا اعلان کرنے کے باوجود احتجاج ، مزید ٹاونس میں کرفیو ، فوج کا فلیگ مارچ

جاٹ کوٹہ احتجاج میں تشدد ‘ ریلوے اسٹیشن  پولیس اسٹیشن و دیگر املاک نذرآتش

چندی گڑھ ۔ 20 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہریانہ میں بدامنی پھیلتی جارہی ہے ۔ جاٹ طبقہ کے تشدد اور احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ کے واقعات ہوئے ۔ مرنے والوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے ۔ ہریانہ کے مختلف اضلاع میں سیکوریٹی فورس کی فائرنگ میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ تشدد سے بری طرح متاثرہ اضلاع میں فوج نے فلیگ مارچ کیا ۔ ہریانہ تحفظات کے مسئلہ پر جل اٹھا ہے ۔ ہریانہ روڈ ویز کی کئی بسیں ، 7 ریلوے اسٹیشن ، ایک پولیس اسٹیشن اور چند عمارتیں نذر آتش کردی گئی ہیں ۔ کوٹہ کے حق میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے والوں نے املاک کو نشانہ بنایا ہے ۔ فوج نے ضلع روہتک کو ہیلی کاپٹرس کے ذریعہ پہونچ کر یہاں کی ناکہ بندی کو ختم کرانے کی کوشش کی ۔ مزید پانچ اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ روہتک میں ہریانہ ڈیری کارپوریشن کے ایک ملک پلانٹ کو بھی جاٹ طبقہ کے لوگوں نے آگ لگادی ۔ برہم احتجاجیوں نے ایک ریلوے اسٹیشن ‘ ایک پولیس اسٹیشن اور کچھ عمارتوں کو نذر آتش کردیا گیا جبکہ فوج کی جانب سے روہتک ضلع کے کچھ علاقوں تک پہونچنے کیلئے ہیلی کاپٹرس استعمال کئے گئے ۔ یہاں احتجاجیوں نے ضلع میں داخلہ کا راستہ روک دیا تھا ۔ آج حالات کو دیکھتے ہوئے مزید ٹاؤنس سونی پت ‘ گوہانا اور جھجر میں بھی کرفوے نافذ کردیا گیا ۔ ان علاقوں میں بھی تشدد اور آگ زنی کے واقعات کل رات اور آج دن میں بھی پیش آئے ۔ روہتک اور بھیوانی اضلاع میں پہلے ہی کرفیو نافذ ہے اور یہاں دیکھتے ہی گولی ماردینے کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ روہتک اور بھیوانی میں فوج کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں روڈ اور ریلوے ٹریفک ہنوز متاثر ہے کیونکہ یہاں راستہ روک دیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں دہلی اور ہریانہ کے باہر پنجاب ‘ ہماچل پردیش : جموں و کشمیر اور چندی گڑھ سے مختلف قومی شاہراہوں کے ذریعہ آنے والی ٹریفک مسدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ ریلوے حکام نے کئی ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ کچھ افراد نے جھجھر میں ہریانہ کے وزیر او پی دھنکر کی قیامگاہ پر سنگباری کی لیکن کوئی زحمی نہیں ہوا ۔ جاٹ احتجاجیوں کی جانب سے کوٹہ کا مطالبہ کرتے ہوئے شدت اختیار کرگئے احتجاج کے دوران چیف منسٹر منوہر کھتر نے تازہ اپیل جاری کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھیں اور انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ کا حل دریافت کریگی ۔

انہوں نے صورتحال کا اپنے کابینی رفقا اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ جائمہ لینے کے بعد کہا کہ اس طرح کے واقعات سے عدم یکجہتی پیدا ہوتی ہے انہوں نے احتجاجیوں سے عام حالات بحال کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ عوامی جائیداد و املاک کو نقصان پہونچاتے ہوئے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ریاست کے وسیع علاقہ میں عام زندگی متاثر رہی جبکہ دوکانیں اور تجارتی ادارے ‘ اسکولس بند رہے ۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو کئی اضلاع میں بند کردیا گیا تھا اور اشیائے ضروریہ کی سربراہی بھی بری طرح متاثر رہی ۔ ریاست کے ڈی جی پی نے تازہ ترین تشدد کے باوجود حالات کو قابو میں قرار دیا ہے ۔ ریاست میں کئی علاقوں میں پٹرول پمپس پر پٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس دوران چیف منسٹر منوہر کھتر نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت جاٹ کوٹہ کا مطالبہ قبول کرچکی ہے ۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت احتجاجیوں کے مطالبات قبول کرچکی ہے اور انہیں اب گھروں کو واپس ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ۔ جاٹ برادری کے قائدین نے تاہم احتجاج کو ختم کرنے سے انکارکردیا ہے اور کہا کہ جب تک جاٹ برادری کو او بی سی زمرہ میں شامل کرنے کا اعلامیہ جاری نہیں کیا جاتا اس وقت تک احتجاج چلتا رہے گا ۔ جاٹ قائدین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جو لوگ کل پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں ان کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ادا کی جائے ۔ جاٹ آرکشن سنگھرش سمیتی کے قومی صدر یشپال ملک نے کہا کہ ہم اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کرینگے جب تک حکومت اس سلسلہ میں آرڈیننس جاری نہیں کردیتی ۔ ہم صرف بیانات کو قبول نہیں کرینگے ۔ حکومت کو پہلے آرڈیننس جاری کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT