Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / ہریانہ میں دوبارہ اضطراب ‘ جاٹ برادری کی مہلت ختم

ہریانہ میں دوبارہ اضطراب ‘ جاٹ برادری کی مہلت ختم

امکانی احتجاج سے نمٹنے وسیع تر پولیس و سکیوریٹی عملہ متعین ۔ مرکز سے نیم فوجی دستوں کی 80 کمپنیوں کی آمد

چندی گڑھ 17 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہریانہ میں ایک بار پھر اضطراب پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جاٹ برادری کی جانب سے کوٹہ مطالبہ پر کل سے احتجاج کرنے کیلئے انہوں نے 72 گھنٹوں کی جو مہلت دی تھی وہ آج رات ختم ہورہی ہے ۔ نیم فوجی دستوں اور پولیس کو حساس اضلاع میں متعین کردیا گیا ہے اور ان کی جانب سے مختلف مقامات پر فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے ۔ مختلف جاٹ تنظیموں نے ریاست میں بی جے پی زیر قیادت حکومت کو کوٹہ مطالبہ کی تکمیل کیلئے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو آج رات ختم ہو رہی ہے ۔ جاٹ تنظیموںنے پیر کو انتباہ دیا تھا کہ اگر منوہر لال کھتر حکومت کی جانب سے آج تک ان کے مطالبات کی یکسوئی نہیں کی گئی تو وہ اپنا کوٹہ احتجاج دوبارہ شروع کرینگے ۔ کوٹہ احتجاج کی وجہ سے گذشتہ مہینے ریاست دہل کر رہ گئی تھی اور اس احتجاج میں جملہ 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ مرکزی حکومت نے ریاست کو نیم فوجی دستوں کی 80 کمپنیاں روانہ کی ہیں جنہیں حساس علاقوں جیسے روہتک اور جھجر اضلاع میں متعین کیا جا رہا ہے ۔ یہ اضلاع گذشتہ مہینے احتجاج کے پہلے مرحلہ میں شدید متاثر رہے تھے ۔ سکیوریٹی عملہ کی جانب سے مختلف مقامات پر فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے تاکہ عوام میں اعتماد بحال کیا جاسکے کیونکہ گذشتہ مہینے احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر آگ زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔

آئی جی روہتک رینج سنجے کمار نے کہا کہ ہمارے پاس نیم فوجی دستے پہونچ چکے ہیں۔ پولیس بھی چوکس ہے اور ہم لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ ریاست میں دوسرے مقامات سے بھی اضافی پولیس دستوں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ حساس علاقوں میں متعین کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مناسب پولیس سکیوریٹی انتظامات کئے ہیں اور اس کے مطابق فورس کو متعین کیا جا رہا ہے ۔ روہتک ‘ جھجر اور کچھ دوسرے علاقوں کی صورتحال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال صورتحال معمول کے مطابق ہے ۔ ان علاقوں میں حالیہ وقتوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ حکام نے کئی ٹاؤنس میں اضافی سکیوریٹی عملہ کو متعین کرتے ہوئے سخت انتظامات کئے ہیں۔ ان میں جند اور سونی پت بھی شامل ہے ۔ جاٹ برادری کی جانب سے اپنے مطالبات کی یکسوئی کیلئے جو مہلت دی گئی تھی وہ آج رات ختم ہورہی ہے ۔ صدر اکھل بھارتیہ جاٹ مہاسبھا ہوا سنگھ سانگوان نے کہا کہ ریاستی حکومت کو 17 مارچ تک مہلت تھی ۔ اس حکومت نے اب تک ہمارے مطالبات پر کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ 17 مارچ ( آج ) کو ہم اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دینگے ۔ ہم یہ فیصلہ کرینگے کہ آیا سڑکوں کو روکا جائے اور ریلوے پٹریوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں یا پھر کوئی دوسرا احتجاج کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT