Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ہریتاہرم پروگرام برقرار، روڈ جنکشن کی ترقی پر توجہ

ہریتاہرم پروگرام برقرار، روڈ جنکشن کی ترقی پر توجہ

وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کا مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔/9جولائی، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے آج مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں گریٹر حیدرآباد میں ہریتا ہارم پروگرام پر عمل آوری اور روڈ جنکشنس کی ترقی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ روڈ جنکشنوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دیں تاکہ بڑھتی ٹریفک کے مسائل سے نمٹا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ہریتا ہارم پروگرام مستقل طور پر جاری رہے گا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت کے مطابق بلدیات کو اس پروگرام کی کامیابی کیلئے مساعی کرنی ہوگی۔ گریٹر حیدرآباد کے 150 ڈیویژنوں میں نرسریز قائم کی جائیں گی جہاں سے پودے سربراہ کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر نے کمشنر گریٹر حیدرآباد جناردھن ریڈی کو ہدایت دی کہ وہ زائد نرسریز کے قیام کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے وزارت بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ریاست کی دیگر کارپوریشنوں میں ضرورت کے مطابق نرسریز کے قیام کو یقینی بنائیں جہاں سے عوام شجرکاری کیلئے پودے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت کے وقت شجرکاری کی شرط کو لازم قرار دینے سے متعلق تجویز کے بارے میں عہدیداروں سے رائے طلب کی گئی ہے۔ عوام کی جانب سے اس تجویز کا خیرمقدم کیا گیا لہذا عہدیداروں کو اس سلسلہ میں مزید پیش رفت کرنی چاہیئے۔ کے ٹی آر نے تمام کارپوریشنوں اور میونسپلٹیز میں ہریتا ہارم پروگرام کو کامیاب بنانے اور زیادہ سے زیادہ شجرکاری پر زور دیا۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں روڈ جنکشنس کے قیام اور ان کی ترقی کے مسئلہ پر کمشنر پولیس مہیندر ریڈی کے علاوہ جی ایچ ایم سی، آر اینڈ بی اور قومی شاہراہوں کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ شہر میں 210 روڈ جنکشنس کی ترقی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے 60کروڑ روپئے کے خرچ کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 89 روڈ جنکشنوں کیلئے 12.5 کروڑ روپئے کے کام مکمل کئے گئے ہیں۔ کے ٹی آر کو بتایا گیا کہ مختلف محکمہ جات کی جانب سے جنکشنوں کے سلسلہ میں اراضی حاصل کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ کے ٹی آر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ پہلے مرحلہ میں کم از کم 10 جنکشنوں کو مثالی جنکشن کی طرح ترقی دیں۔ کے ٹی آر نے عہدیداروں سے کہا کہ روڈ جنکشنس کی تعمیرکیلئے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ منصوبہ تیار کیا جائے اور سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد شہر کی جامع ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام محکمہ جات کے مشترکہ تعاون سے اس مقصد کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تمام محکمہ جات کے عہدیداروں سے بہتر تال میل کے ذریعہ شہر کی ترقی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT