Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ہریتاہرم کے تحت کی گئی شجرکاری غیر محفوظ

ہریتاہرم کے تحت کی گئی شجرکاری غیر محفوظ

کروڑہا روپیوں کا خرچ اکارت ثابت ، حکومت کا پروگرام ناکام تصور
حیدرآباد۔9۔جنوری (سیاست نیوز) شجرکاری مہم’ہریتا ہرم‘ کے دوران شہر حیدرآباد میں لگائے گئے کتنے پودے محفوظ ہیں؟ ہریتا ہرم کے دوران اسکول‘ پولیس اسٹیشن‘ سرکاری دفاتر کے علاوہ مختلف مقامات پر اہم شخصیتوں کی موجودگی میں پودے لگائے گئے لیکن اس شجرکاری مہم کے بعد ان پودوں کی مناسب دیکھ ریکھ نہ ہونے کے سبب اب ان پودوں کی باقیات بھی کئی اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں موجود نہیں ہیں اور سوائے تصاویر کے کوئی یہ ثبوت نہیں ہے کہ ان مقامات پر شجرکاری مہم بھی چلائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہریتا ہرم کے نام سے کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے ریاست بھر میں شجر کاری مہم چلائی گئی تھی اور اس مہم میں نہ صرف محکمہ جنگلات نے بلکہ تمام سرکاری محکمہ جات نے حصہ لیتے ہوئے اسے کامیاب بنانے کی کوشش کی جس کے کافی اچھے نتائج بھی برآمد ہوئے اور کئی مقامات پر شجرکاری مہم میں اہم شخصیتوں اور عام شہریوں نے شہر کے مستقبل اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے مہم میں حصہ بھی لیا لیکن شہر میں اس مہم کے بعد ان پودوں کے تحفظ پر عدم توجہی کے سبب اب یہ مہم ناکام ثابت ہونے لگی ہے کیونکہ جو شجر کاری کی گئی تھی وہ تصویر کشی کی حد تک رہی۔ بعض اسکولوں میں شجرکاری سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ اپنے پودوں کی حفاظت کر رہے ہیں تو بعض دفاتر میں ماحولیات کے متعلق سنجیدہ عہدیداروں کے سبب ہریتا ہرم کے دوران لگائے گئے پودوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ کئی ایسے مقامات ہیں ہریتا ہرم کے دوران لگائے گئے پودوں کی حفاظت نہیں کی گئی حتی کہ انہیں پانی ڈالنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں گئی جس کے سبب پروگرام کے دوران لگائے گئے پودے باقی نہیں رہے۔ حیدرآباد میں سڑک کے کنارے صرف چند ایک مقامات پر شجرکاری کی گئی تھی لیکن ان پودوں کو اندرون چند یوم تلف کردیا گیا جس کے نتیجہ میں اب کوئی آثار بھی نہیں ہیں کہ ان مقامات پر کوئی شجر کاری ہوئی تھی۔ سابق تلگو دیشم دور حکومت میں ’جنم بھومی‘ پروگرام کے دوران کی گئی شجرکاری کو محفوظ رکھنے کیلئے آہنی جالی نصب کی جاتی تھی تاکہ پودوں کو جانوروں سے محفوظ رکھا جا سکے لیکن ہریتا ہرم پروگرام کے دوران کی گئی شجرکاری کو اس طرح تحفظ فراہم کرنے کے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ شہر کے بعض چنندہ مقامات پر جہاں سڑک کے درمیان میں یا سڑک کے کنارے شجرکاری کی گئی ہے ان مقامات پر روزانہ پانی ڈالتے ہوئے ان پودوں کی افزائش کے انتظامات کئے جاتے ہیں جبکہ شہر کے 70فیصد سے زائد علاقوں میں ہریتا ہرم کے دوران کی گئی شجرکاری کو محفوظ بنانے یا اس کی افزائش کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں یہ پروگرام مجموعی اعتبار سے ناکام تصور کیا جانے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT