Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہریتا ہرم پروگرام، 3 لاکھ 70 ہزار پودوں کی شجرکاری

ہریتا ہرم پروگرام، 3 لاکھ 70 ہزار پودوں کی شجرکاری

آج مزید پودے لگائے جائیں گے، تعلیمی ادارہ جات و مذہبی مقامات کو بھی اہمیت
حیدرآباد 10 جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے ہریتا ہرم پروگرام کے تحت حیدرآباد میں 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد پودے لگائے جاچکے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے بموجب 11 جولائی تک 28 لاکھ 80 ہزار پودے لگائے جانے کا منصوبہ ہے جس میں 104 تنظیمیں حصہ لیتے ہوئے ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے 2 لاکھ اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے ایک لاکھ 70 ہزار، محکمہ جنگلات کی جانب سے 2.5 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ تاحال 4,173 مقامات پر شجرکاری مہم چلائی جاچکی ہے۔ اب تک جی ایچ ایم سی کی جانب سے چلائی جانے والی نرسریز سے 13.50 لاکھ پودے تقسیم کئے جاچکے ہیں اور ایچ ایم ڈی اے کی نرسریز سے 12 لاکھ پودوں کی تقسیم عمل میں لائی جاچکی ہے۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے 3 لاکھ پودے تقسیم کئے گئے ہیں۔ شہر میں 6 مقامات پر ادویہ سازی میں استعمال ہونے والے پودوں کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی۔

جن مقامات پر یہ پودے تقسیم کئے جائیں گے اُن میں شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ، چارمینار، مائنڈ اسپیس راہیجا آئی ٹی پارک (مادھاپور) ، اوپل جنکشن، پیپلز پلازہ نیکلس روڈ کے علاوہ کے بی آر پارک جوبلی ہلز شامل ہیں۔ اِس کے ساتھ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جارہی ہے جہاں 50 ہزار سے زائد درخت موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نشاندہی کردہ مقامات میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، ڈی آر ڈی ایل دنڈیگل، پرگتی ریسارٹس، لہری ریسارٹس، پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی کے علاوہ دیگر مقامات شامل ہیں۔ گھروں میں لگائے جانے کے قابل پودوں کی تقسیم کے لئے مذہبی مقامات کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے تاکہ اِن مذہبی مقامات کے ذریعہ عوام کو شجرکاری مہم میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ اُنھیں پودے بھی فراہم کئے جاسکیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 36 تنظیمیں اور مرکزی حکومت کی 35 تنظیموں کے ساتھ خانگی شعبہ سے تعلق رکھنے والی 33 تنظیموں کے تعاون سے یہ مہم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد شہر کے 80 فیصد کمپاؤنڈ وال علاقہ میں شجرکاری کو یقینی بنانا ہے۔ شہر میں جاری شجرکاری مہم کے مستقبل قریب میں مثبت نتائج برآمد ہونے کے علاوہ فضائی آلودگی کے خاتمہ میں معاون ثابت ہونے کا قوی امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT