Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ہر حال میں مئیر ٹی آر ایس کا ہی ہوگا

ہر حال میں مئیر ٹی آر ایس کا ہی ہوگا

ڈپٹی مئیر کے عہدہ کیلئے عائشہ روبینہ اور نوین یادو مجلس کے ہونگے امیدوار !
حیدرآباد 30 جنوری ( سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی انتخابات کی مہم اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے ۔ ایسے میں سیاسی سماجی مذہبی و تہذیبی و ثقافتی حلقوں میں یہی باتیں ہورہی ہیں کہ کون سی جماعت جی ایچ ایم سی پر اقتدار حاصل کریگی ؟ کس جماعت کا مئیر اور ڈپٹی مئیر ہوگا ؟ ٹی آر ایس ، تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد ، مجلس اور دوسری جماعتوں نے عہدہ مئیر کیلئے اپنے امیدواروں کو تاحال باقاعدہ نامزد نہیں کیا ہے ۔ صرف کانگریس نے مئیر کیلئے سابق وزیر مسٹر ایم مکیش گوڑ کے فرزند وکرم گوڑ کو نامزد کیا ہے ۔ اب تمام حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ٹی آر ایس کسی قائد کو مئیر اور ڈپٹی مئیر کے عہدوں پر فائز کریگی ۔ ٹی آر ایس اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نتائج پارٹی قیادت کی توقعات کے برعکس آنے کی صورت میں بھی ٹی آر ایس کا ہی مئیر ہوگا کیوں کہ جی ایچ ایم سی مئیر کیلئے بہ اعتبار عہدہ جن شخصیتوں کو ووٹ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے ان میں جی ایچ ایم سی حدود کے 25 ارکان اسمبلی 5 ارکان راجیہ سبھا دو ارکان لوک سبھا اور مابقی ارکان قانون ساز کونسل شامل ہیں جن کی تعداد 60 ہوتی ہے لیکن اس معاملہ میں ٹی آر ایس کی گنتی 30 یا 32 سے شروع ہوتی ہے اس طرح مئیر کے انتخاب میں اسے انتخابات سے قبل ہی سبقت حاصل ہے ۔ ٹی آر ایس ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس کو 45 وارڈس میں بھی کامیابی ملتی ہے تو بہ اعتبار عہدہ ایم پی ، ایم ایل ایز ، ایم ایل سیز کی شکل میں اسے تیس بتیس ووٹ آسانی سے حاصل ہوں گے ۔ اس طرح وہ عہدہ مئیر پر قبضہ کرے گی ۔ مختلف حلقوں سے یہ باتیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ ٹی آر ایس ڈپٹی مئیر کا عہدہ مجلس کیلئے چھوڑتی ہے تو موجودہ حالات میں مجلسی قیادت ڈپٹی مئیر کیلئے پرانا شہر سے نہیں بلکہ نئے شہر سے امیدوار (کارپوریٹر ) کو نامزد کریگی اس سلسلہ میں احمد نگر ڈیویژن سے مقابلہ کررہی مجلس امیدوار عائشہ روبینہ کا نام لیا جارہا ہے ۔ 46 سالہ عائشہ روبینہ پچھلی بلدیہ میں معاون رکن تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اکبر الدین اویسی کے فلیگ شپ اداروں کے امور کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں ۔ سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ بات بھی گشت کررہی ہے کہ ڈپٹی مئیر کیلئے رحمت نگر سے مقابلہ کررہے نوین یادو کو بھی نامزد کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پرانا شہر سے منتخب ہونے والے مجلسی کارپوریٹرس کو شدید مایوسی ہوگی ۔ بہر حال اب صرف دو دن ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT