Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / ہر ’’ خان ‘‘ امریکہ کیلئے دہشت گرد

ہر ’’ خان ‘‘ امریکہ کیلئے دہشت گرد

لیجئے شاہ رخ خان بھی دہشت گرد ہوگئے، جی ہاں ہندوستان کے ہردلعزیز فلمی اداکار جنہیں پیار سے ’ بالی ووڈ بادشاہ ‘ کہا جاتا ہے وہی شاہ رخ ابھی پچھلے ہفتہ دہشت گردی کے شبہ میں کچھ دیر کیلئے حراست میں رہے۔ شکر ہے خدا کا کہ یہ واقعہ شاہ رخ کے ساتھ ہندوستان میں نہیں بلکہ امریکہ میں پیش آیا۔ ویسے موجودہ حالات میں اگر یہ واقعہ ان کے ساتھ ہندوستان میں بھی پیش آتا تو کوئی حیرت نہ ہوتی۔ خیر ، ہوا یوں کہ شاہ رخ امریکہ کے سفر پر جیسے ہی امریکہ کے شہر لاس اینجلس پہونچے ویسے ہی وہاں موجود سیکورٹی نے ان سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ آئیں اور بس فوراً سیکورٹی نے بند کمرہ میں ان سے تفتیش شروع کردی۔ ظاہر ہے کہ شاہ رخ گھبرا گئے ہوں گے۔ پھر انہوں نے اپنے ہوش و حواس نہیں کھوئے ۔اس سے قبل کہ شاہ رخ کا موبائیل فون سیکورٹی ضبط کرتی انہوں نے اس بات کی خبر اپنے اہل خانہ کو کردی۔ جلد ہی ان لوگوں نے اس بات کی اطلاع وزارت خارجہ کو کردی جو فوراً حرکت میں آگئی اور پھر وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے جلد ہی دہلی میں امریکی سفیر سے اس سلسلہ میں بات کی۔ امریکی سفیر برائے ہندوستان گھبراگئے ۔ انہوں نے فوراً واشنگٹن میں ہندوستان سے متعلق امریکی افسران سے جلد رابطہ قائم کرکے فوراً شاہ رخ کی رہائی کی مانگ کی۔ اس کے بعد امریکی سیکورٹی نے شاہ رخ کو حراست سے رہا کیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس تمام گہما گہمی کو چند گھنٹے لگ گئے اور اس بیچ امریکی سیکوریٹی شاہ رخ کے ساتھ سختی سے پوچھ تاچھ کرتی رہی اور ہندوستان کا بالی ووڈ بادشاہ امریکہ کے معمولی سے سیکورٹی کارندوں کے سوالوں کا نشانہ بنارہا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ شاہ رخ کواس عرصہ میں ایک دہشت گرد ہی سمجھا جاتا رہا۔جانتے ہیںشاہ رخ کے ساتھ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ، اول تو وہ نام سے مسلمان شناخت کئے جاتے ہیں پھر ان کے نام کے ساتھ خان بھی جڑا ہوا ہے جو عموماً افغانیوں کی بھی کنیت ہوتی ہے اور اس دور میں کم از کم مغرب میں ہر افغانی دہشت گرد ہی سمجھا جاتا ہے۔ خدا بھلا کرے افغانی طالبان کا کہ جن کی دہشت گردی کی وجہ سے شاہ رخ خان کو بھی دہشت گرد سمجھا گیا۔ شاہ رخ خان کے ساتھ یہ واقعہ امریکہ میں پہلی بار نہیں بلکہ تیسری بار پیش آیا۔ آخر انہوں نے باہر نکل کر بیان دیا کہ میں سیکورٹی کے نکات کو سمجھ سکتا ہوں لیکن جب یہ واقعہ میرے ساتھ تیسری بار پیش آیا تو یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔

شاہ رخ صاحب، جب کبھی آپ کی طرح مشہور و معروف شخصیت کو ایک نہیں تین تین بار دہشت گرد بنادیا جائے گا تو وہ غصہ سے کھول اُٹھے گا۔ لیکن کیا کیجئے اس واقعہ کا ذمہ دار امریکیوں کو ٹھہرایئے یا افغانی طالبان کو ٹھہرایئے جنہوں نے ہر پٹھان ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان کو دہشت گردی کا چولا پہنادیا۔ جی ہاں، ان دنوں مغرب میں ایک عام شخص کی نگاہ میں ہر مسلمان دہشت گرد بن چکا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک پاکستانی خاتون نے باآواز بلند ’ اللہ ‘‘ کہہ دیا تو جہاز کے پائیلٹ نے اسے اور اس کے شوہر کو ہوائی جہاز سے اُتار دیا۔ پچھلے ہفتہ ہی یہ بھی خبر آئی کہ برطانیہ میں 72 فیصد مسلم لڑکیوں کو اس لئے روزگار نہیں مل رہا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں اور اس وجہ سے فوراً مسلم شناخت ہوجاتی ہے۔

اب دنیا بھر میں اور بالخصوص مغرب میں مسلمان دہشت گرد ہی سمجھا جارہا ہے۔ یہ کمال کچھ مغربی میڈیا کا ہے اور کچھ ان لوگوں کا ہے جو مسلمانوں کے بھیس میںآئے دن اللہ اکبر کے نعرہ کے ساتھ بھرے بازار میں خودکش حملے کرکے معصوم افراد کی جان لے لیتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شاہ رخ کولاس اینجلس ایرپورٹ پر اس لئے زیر حراست لے لیا جاتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ خان جڑا ہوا ہے۔ اللہ خیر کرے اس امت کا کہ جس کے رسولؐ نے انسانیت کو برابری کا سبق دے کر ہر فرد کو دوسرے فرد کا بھائی بنادیا اور جس کے سبب دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند ہوگیا تھا اسی امت کا اب یہ حال ہے کہ اس کے افراد دنیا بھر میں دہشت گرد گردانے جارہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پیغام کے ساتھ عبادت گاہ یعنی مسجد کے دروازے ہر مسلمان کیلئے کھول دیئے جہاں کالا، گورا ، عربی، عجمی ، عربی بولنے والا اور فارسی بولنے والا ، غریب اور امیر ہر طرح کا انسان اللہ کی بارگاہ میں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر اپنی نماز ادا کرنے لگا۔ اسلام سے قبل کسی اور مذہب کی عبادت گاہ اس طرح ہر شخص کے لئے نہیں کھلی تھی۔ مندر محض اعلیٰ ذات ہندوؤں کے مسکن تھے۔ گرجا گھروں میں امیر و غریب کے امتیاز کا چلن تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہر شخص کو برابر کھڑا کرکے انسان کو یہ سبق دیا کہ رب العالمین کی بارگاہ میں ہر شخص برابر ہے خواہ وہ کوئی زبان بولتا ہو، کسی نسل یا کسی قبیلے کا ہو، وہ کسی رنگ کا ہو یا کسی علاقہ کا ہو۔ یہ ایک سماجی انقلاب تھا کہ جس نے پہلی بار انسانیت کو برابری کا اس طرح احساس دلایا کہ اسلام سے قبل انسان کو یہ احساس تھا ہی نہیں۔ تبھی تو دنیا نے اسلام کو لبیک کہا اور صدائے ’ لا الہ ‘ دنیا کے کونے کونے میں گونج اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمان دنیا کی سب سے قابل احترام قوم ہوگئے۔
افسوس کہ وہی مسلمان اب قابل احترام کے بجائے قابل شبہ بن گیا ہے کیونکہ مسلمان رسول اللہ کے بتائے ہوئے سماجی سبق کو بھول گیا ہے اور گمراہ عناصر اغیار کے اشاروں پرہاتھ میں وحشیوں کی طرح بندوق لئے کارتوس کی پیٹھی باندھ کر نام نہاد جہاد کا نعرہ بلند کرکے خودکش حملوں میں مصروف ہیں۔ آج ہمارے مبلغ دنیا تو دنیا خود مسلمانوں کو رسول اللہ کا پیغام نہیں دیتے کہ اسلام انسانی اخوت و برابری کا مذہب ہے۔ اس مذہب میں کسی طرح کی اونچ نیچ کا فرق نہیں۔ اس پیغام میں نسلی تعصب یا لسانی تعصب کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ وہ راستہ ہے کہ جس پر عورتوں کو برابری کا مقام دیا گیا ہے، یہ وہ دین ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو خلع تک کا اختیار دیا۔ ایسا سماجی انقلاب برپا کرنے والے اسلام کو بدنام کرنے کیلئے اس پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کردیاگیا۔اب تو یہ عالم ہے کہ جہادی اگر ایک حملہ مغرب میں کرتے ہیں تو دس حملے خود مسلمانوں پر کرتے ہیں۔ مسلمان ہی مسلمان کے خلاف جہاد کررہا ہے۔ افغانستان، پاکستان، شام، عراق اور لیبیا جیسے ملکوں میں جہاد کا نشانہ بننے والے کلمہ گو ہیں۔
اب ایسی قوم جو خود اپنے ہم قوموں کو بے وجہ گولی اور بارود کا نشانہ بنائے اس کو لوگ وحشی اور دہشت گرد نہیں سمجھیں گے تو اور کیا سمجھیں گے۔ پھر شاہ رخ خان اور کوئی اکبر خان میں کوئی امتیاز نہیں بچے گا۔ دنیا کو انسانی اخوت و برابری کا سبق دینے والی قوم اب دہشت گرد ہی سمجھی جارہی ہے۔ یہ افسوس کا نہیں ندامت کا مقام ہے، اس سلسلہ میں کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرانے سے قبل ذرا خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیجئے ۔ خدا را، ابھی بھی وقت ہے دشمن کی مکاری کو سمجھ لیجئے ورنہ ہر مسلمان انسانیت کا مجرم قرار دے دیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT